پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں پاکستانی شہری شاکر اللہ پر تشدد اور قتل پر پاکستان نے جوابی اقدامات کا اعلان کردیا

datetime 4  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اراکین سینیٹ نے بھارت میں پاکستانی شہری شاکر اللہ پر تشدد اور قتل پر بھارتی وزیر اعظم مودی کیخلاف پاکستان اور بھارت میں مقدمات درج کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وزرا ء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے ایوان سے دو بار واک آؤٹ کیا ،حکومت کی جانب سے کورم پوراکرنے میں ناکامی کے باعث چیئرمین کو اجلاس ملتوی کر نا پڑا۔پیر کو سینیٹ کااجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔

شیری رحمان نے نکتہ اعتراض بھارتی جیل میں قتل کی گیا پاکستانی شہری شاکر اللہ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ شاکراللہ کو جیل میں ٹارچر کر کے ہلاک کیا۔11دن بعد بارڈر پر لاش دی ہے۔شاکراللہ جنگی قیدی نہیں تھا،بھارتی حکومت شاکر اللہ کی میڈیکل رپورٹس شیئر نہیں کر رہی ،شاکراللہ بھارت کی ریاستی تحویل میں تھا۔جیل میں ٹارچر کر کے شاکر اللہ کو ہلاک کیا گیا۔وزیر خارجہ مصروف ہیں وزیر انسانی حقوق ہی جواب دیں۔بیرسٹر سیف ،عبدلقیوم،سینیٹر مشتاق اور دیگر نے بھی حکومت سے عالمی دباؤ پر آواز اٹھانے کی بات کی۔اس پر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کون سا عالمی معاہدہ اس ہر لاگو ہوتا ہے۔بھارتی جیل میں سرکاری سرپرستی میں ان پر تشدد کیا گیا،شیریں مزاری نے کہاکہ یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے۔بیرسٹر سیف اور دیگر نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے خلاف اس قتل پر اپنی ملک میں مقدمہ درج کیا جائے۔شیریں مزاری نے کہا کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہیے۔بھارت میں بھی یہ کیس درج کیا جا سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک دن کی مہلت دیں اس پر ایوان کو آگاہ کریں گے۔اجلاس کے دور ان متعلقہ وزراء کی عدم موجودگی کے باعث اپوزیشن نے ایوان سے وا ک آؤٹ کیا۔ چیئرمین سینٹ کی جانب سے بار بار بلانے کے باوجود کوئی بھی وزیر ایوان میں موجود نہیں تھا جس پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزراء ایوان بالا کو سنجیدگی سے نہیں لیتے،

وزراء کو فوری طور پر ایوان میں بلایا جائے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں وزراء ایوان میں اپنی حاضری یقینی بناتے ہیں، ابھی تک متعدد وزراء موجود تھے تاہم اس وقت وہ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے باعث گئے ہیں، وہ جلدی ایوان میں واپس آئیں گے، اپوزیشن کو تو صرف بہانہ چاہیے ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی بات پر ایوان سے واک آؤٹ کریں۔ کورم کی کمی کے باعث چیئر مین نے اجلاس (منگل )سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…