جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کے اتحادی نہیں حمایتی ہیں،پی ٹی آئی نے حکومت بنانے کیلئے ہم سے رابطہ قائم کیا تھا ،سردار اختر مینگل ڈٹ گئے، دوٹوک اعلان

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

کوئٹہ(این این آئی) بی این پی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت بنانے کیلئے ہم سے رابطہ قائم کیا تھا ، ہم نے حمایت کیلئے پی ٹی آئی کے سامنے مطالبات رکھے۔ہم ناراض لوگوں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سردار اخترمینگل نے کہا کہ ہم ناراض لوگوں کو واپس لاناچاہتے تھے،

ماضی میں لاپتاافراد کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، ہم بلوچستان کے مسائل کاحل چاہتے ہیں۔اخترمینگل کا کہنا تھا کہ کچھ لاپتا افراد بازیاب ہوئے،کچھ مزیداٹھالئے گئے، وسائل کااختیارصوبوں کو دیاجائے۔اخترمینگل کا کہنا تھا کہ صوبوں کواعتمادمیں لئے بغیردوسرے ممالک سے معاہدے ہورہے ہیں، پی ٹی آئی حکومت کے اتحادی نہیں حمایتی ہیں، پاکستان میں وزرائے اعظم کے اختیارات محدودرہے۔بی این پی رہنما کاکہنا تھا کہ پانی نہیں ہوگا توزراعت کہاں سے ہوگی؟ کیا وجوہات ہیں ہمارے مطالبات پرعملدرآمد نہیں ہورہا؟ ہم اپنے لوگوں کو بھی جوابدہ ہیں۔اخترمینگل کا کہنا تھا کہ منی بجٹ میں بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے نہیں رکھے گئے، ہم ترقی کے بالکل بھی مخالف نہیں۔اخترمینگل کا کہنا تھا کہ ترقی کا فائدہ مقامی افراد کو ہوناچاہئے، کوئٹہ میں افغان مہاجر منتخب ہوکر آیا، سی پیک میں بلوچستان کو کچھ نہیں دیاگیا۔  بی این پی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت بنانے کیلئے ہم سے رابطہ قائم کیا تھا ، ہم نے حمایت کیلئے پی ٹی آئی کے سامنے مطالبات رکھے۔ہم ناراض لوگوں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سردار اخترمینگل نے کہا کہ ہم ناراض لوگوں کو واپس لاناچاہتے تھے، ماضی میں لاپتاافراد کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، ہم بلوچستان کے مسائل کاحل چاہتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…