پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف کا خون۔۔۔!!! وفاقی وزیر غلام سرور نے ضلع کرک سے ہزارہ ڈویژن آنیوالی گیس کا رخ اپنے حلقے کی طرف موڑ لیا ،عوام سراپااحتجاج 10افراد کی ہلاکتوں کا مقدمہ کن کیخلاف درج کرانیکا اعلان کردیا؟

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایبٹ آباد میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گزشتہ 20 دنوں میں 10 افراد جاں بحق ہوچکے ، جن میں ایک خاندان کے پانچ، ایک خاندان کے تین اور تیسرے خاندان کے دو افراد (دادی، پوتا) شامل ہیں۔ اس صورتحال پر ایبٹ آباد کے عوام شدید مشتعل ہیں۔ جبکہ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

روزنامہ امت کے مطابق مقامی افراد اور تنظیموں کی جانب سے پیر کے روز احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستہ شاہراہ ریشم کو بند کردیا جائے گا۔ جبکہ تحریک انصاف کے وزراء اور اسپیکر صوبائی اسمبلی گھر کا گھیراؤ بھی کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایبٹ آباد سے مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے رکن قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور رکن صوبائی اسمبلی سردار اورنگزیب نے ان متاثرہ خاندانوں کو قانونی معاونت اور مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں گیس سے ہلاکتوں کے ذمہ دار وزیر اعظم اور خاص طور پر وزیر پٹرولیم غلام سرور خان ہیں، جنہوں نے ضلع کرک سے ہزارہ ڈویژن میں آنے والی گیس کا رخ برہان سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں اپنے حلقے کی طرف موڑ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ ایبٹ آباد اور ہزارہ کے شہری گیس کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایبٹ آباد سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر تحریک انصاف کے علی خان جدون منتخب ہوئے تھے، جو اب وفاقی وزیر ہیں۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں پی ٹی آئی اور ایک مسلم لیگ (ن) کے سردار اورنگزیب نے جیتی تھی، جو تنہا صوبائی اسمبلی میں اپنے حلقے اور ضلع کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ تاہم ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی اور صوبائی وزیر قلندر لودھی اپنے حلقے اور شہر کے عوام کو بھول کر سرکاری ذمہ داریوں میں مگن ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…