پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

عام آدمی کو حکومت کا ایک اور بڑا جھٹکا، ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کا کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ، ہنڈی سے ایک ارب ڈالر ہر سال باہر جاتے تھے مگر کتنا ٹیکس ملتا تھا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کے کاروبار پر پابندی لگادی گئی، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے دو اثرات ہوں گے، عام صارف پر اس کا ایک اثر یہ ہو گا کہ جو گاڑیاں ری کنڈشنڈ باہر سے آتی تھیں، اچھی حالت اور کم قیمت میں مل جاتی تھیں اب وہ نہیں مل سکیں گی،

دوسری جانب بعض ماہرین کے نزدیک اس فیصلے سے کار انڈسٹری کی لاٹری لگ جائے گی، ان کی کاروں کی ڈیمانڈز میں اور زیادہ اضافہ ہو جائے گا، دوسری جانب حکومت کا کہناہے کہ اس فیصلے سے ملکی کار انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور جو بیرون ملک کے نئے اسٹیک ہولڈرز کارخانے لگانا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہو گی، اس سلسلے میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ گفٹ سکیم یا پرسنل بیگج کے تحت گاڑیاں منگوانے کی آزادی ختم کر دی جائے گی، اس کو روکنے کے لیے یہ راستہ اپنایا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کی ڈیوٹی ادائیگی جو ہوتی تھی اب اس شخص کو اپنے اکاؤنٹ سے کرنا پڑے گی جو یہ گاڑی منگوائے گا، گاڑی منگوانے والے کو بینک ان کیش منٹ سرٹیفکیٹ بھی دینا پڑے گا یعنی اپنا اکاؤنٹ لازمی ہو گا، پاکستان میں ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کاکاروبار دراصل ایک ایسا کاروبار تھا جو کہ سب کو پتہ تھا کہ یہ بالکل غیر فطری انداز میں ہو رہا ہے، کیونکہ جس نام سے گاڑی منگوائی جاتی تھی وہ تقریباً ایک فرضی نام ہوتا تھا، اس کے علاوہ ان گاڑیوں پر جو سرمایہ لگایا جاتا تھا وہ پاکستانی بینکوں کے ذریعے نہیں بھیجا جاتا تھا بلکہ ہنڈی کے ذریعے بھیجا جاتا تھا اور اس مد میں ہنڈی سے ایک ارب ڈالر ہر سال باہر جاتے تھے لیکن حکومت کو صرف 100 ارب سالانہ ٹیکس ملتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…