جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جتناآپ نے اور آپ کے سرپرستوں نے بد نام کیا ضروری ہے ریفرنس بنے اور کورٹ آف لاء میں فیصلہ ہو ،سعد رفیق نے نیب کو چیلنج کردیا

datetime 17  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر ریلوے اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ نیب سے کہا ہے ریفرنس ضرور بنائیں ،جنتا آپ نے اور آپ کے سرپرستوں نے بد نام کیا ضروری ہے ریفرنس بنے اور کورٹ آف لاء میں فیصلہ ہو ،جب تک نیب میں عیب دور نہیں کریں گے تو حکومت کو بھی بھگتنا ہوگا، اللہ کریں آپ اسے نہ بھگتیں، نہیں چاہتے کہ آپ کو گرانے کے چکر میں پورا جمہوری نظام لپٹ جائے،کہ اپوزیشن کے اتحاد سے جمہوریت اور عوام کو فائدہ ہوگا، حکومت کو وقتاً وقتاً اس کا چہرہ دکھاتے رہیں گے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بے پناہ دباؤ کے باوجود اسپیکر کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری کر کے بات کرنے کا حق دینے پر مشکور ہوں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جیل کی سلاخوں کی پیچھے سے ایک سیاسی کارکن جس کی اپنی سیاسی جدوجہد کی عمر 4 دہائیوں پر محیط ہے، ایک اور انداز میں ساری صورتحال کو دیکھ سکتا ہے، بطور پولیٹیکل کامریڈ اپنے لیے پریشان نہیں ہوں، نیب والوں کو کہا ہے کہ ریفرنس ضرور بناؤ، جتنا آپ نے اور آپ کے سرپرستوں نے بدنام کیا، اب ضروری ہے کہ ریفرنس بنے تاکہ کورٹ آف لاء میں اس کا فیصلہ ہو۔خواجہ سعد رفیق نے نیب کو عیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک عیب دور نہیں کریں گے تو حکومت کو بھی بھگتنا ہوگا، اللہ کریں آپ اسے نہ بھگتیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد کو حکومت اپنے لیے خطرہ نہ سمجھے، برسوں کے تجربات سے بہت سیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ روز گالیاں ملنے کے باوجود حکومت گرانا نہیں چاہتے لیکن چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے بات کرتے رہیں گے اور نہیں چاہتے کہ آپ کو گرانے کے چکر میں پورا جمہوری نظام لپٹ جائے، چاہتے ہیں جو چاند تارے توڑ کر لانے کے وعدے کیے گئے تھے ان میں سے صرف 10 فیصد وعدے ہی پورے کرلیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد سے جمہوریت اور عوام کو فائدہ ہوگا، حکومت کو وقتاً وقتاً اس کا چہرہ دکھاتے رہیں گے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وزیراعظم کو مشورہ دیتا ہوں، ان سے بہت ناراض ہوں لیکن مشورہ ٹھیک دوں گا کہ وہ اپنے مخلص دوستوں کو بٹھائیں اور کنٹینر سے واپس آئیں، وہ پانچ ماہ کی حکومت کرچکے ہیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 71 سال کی تاریخ ہے، یہاں خان ولی خان، اکبر بگٹی اور جی ایم سید کو غدار قرار دیا گیا، جو اس ملک میں آئین و قانون کی عملداری مانگتا ہے اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے، مجھے کوئی بتائے کہ یہ غدار کون پیدا کرتا ہے؟۔رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ سیاستدانوں کو آرام کرنے کا وقت نہیں ملتا، ان عناصر کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت جیل گیا جہاں آرام بھی کرلیتا ہوں، کھانا بھی وقت پر کھا لیتا ہوں اور وقت پر نماز کی ادائیگی بھی ہوجاتی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…