بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

وفاقی وزیر غلام سرور نے کسی دوسرے غلام سرور نامی شخص کی سند پر بی اے کی ڈگری حاصل کی،نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این )وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔حلقہ این سے 59 کے ہی ایک شہری نے وفاقی وزیر کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ غلام سرور 2002 کے انتخابات میں میٹرک پاس تھے جبکہ الیکشن کمیشن کی گریجویشن کی شرط پر پورا نہیں اترتے تھے۔

درخواست گزار نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما نے کسی دوسرے غلام سرور نامی شخص کی ٹیکنیکل بورڈ کی سند پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ جب 2002 میں ان کی تعلیمی اسناد کو چیلنج کیا گیا تو انہوں نے یہی اسناد جسٹس تصدق حسین جیلانی کے سامنے پیش کیں تھیں۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس وقت ملک میں سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی حکومت تھی اور غلام سرور خان اس حکومت کا حصہ تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور یہ کیس دبا رہا۔درخواست میں بتایا گیا کہ اچانک فیصل آباد کا رہائشی اصل سرور خان ولد عبدالحمید خان سامنے آگیا اور اس نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈپلومہ اس کا ہے جس کے جواب میں غلام سرور خان نے راولپنڈی بورڈ سے ایک اور ڈپلومہ جمع کروادیا جبکہ اسلامیہ کالج کی ان کی ڈگری منسوخ کردی گئی تھی۔درخواست گزار نے عدالت عظمی سے استدعا کی اپنے کاغذات نامزدگی اور حلف نامے میں جھوٹے کوائف دینے پر وہ صادق امین نہیں رہے اور پچھلے 16 سال سے حکم امتناعی اور اثر و رسوخ سے موجودہ وفاقی وزیر پیٹرولیم اس کیس کو کھینچتے رہے۔درخواست گزار نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی کہ جھوٹ بولنے، وسائل اور تعلقات استعمال کرنے پر کیس کو دبانے کی وجہ سے موجودہ وزیر صادق اور امین کے زمرے سے باہر ہیں، تاہم حلقے اور وزارت پر موجود ایسے شخص کو اس منصب پر بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ غلام سرور خان گزشتہ 16 سالوں سے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…