پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

’’تم جانتے نہیں میں کون ہوں‘‘ معروف صحافی دکاندار کو بلیک میل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اپنے بچوں کیلئے کیسے لیپ ٹاپ اور چیزیں زبردستی تحفے میں لیتاتھا وٹس ایپ پر ہوئی گفتگو سامنے آگئی، انصار عباسی نے بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دوسرے دن دکاندار کو انہی رپورٹر صاحب کا وٹس ایپ (Whatsapp) پیغام آیا کہ لیپ ٹاپ کے لیے اُن کے بیٹے کو ایک Accessory چاہئے۔ اُنہیں بتایا گیا کہ مطلوبہ چیز دکان میں موجود ہے، جس کی تصویر اور قیمت رپورٹر صاحب کو بھجوا دی گئی۔ اس پر دکاندار کو انگریزی میں رپورٹر صاحب نے یہ لکھا “I will visit you tomorrow to

collect your gift for nephew” (میں کل آپ کے بھتیجے کے لیے آپ کا تحفہ لینے آئوں گا)۔ دکاندار سمجھدار تھا، اس نے وٹس ایپ پیغام سنبھال کر رکھے ہوئے تھے جو مجھے بھی دکھائے۔ دوسرے دن جب رپورٹر صاحب آئے تو دکاندار نے مطلوبہ چیز دیتے ہوئے کہا کہ مہربانی کر کے دس ہزار پرانے اور ساڑھے سات ہزار نئی خریداری کے ادا کر دیں۔ اس پر رپورٹر صاحب نے کہا کہ دس ہزار روپے تو اُنہوں نے دکاندار کے اکائونٹ میں پہلے ہی ٹرانسفر کر دیئے ہیں۔ دکاندار نے اُنہیں بتایا کہ کوئی پیسہ ٹرانسفر نہیں کیا گیا۔ دکاندار کے مطابق اس پر رپورٹر صاحب کافی ناراض ہوئے اور میری کلاس لیتے ہوئے کہا ’’ تم مجھے جانتے نہیں، میں کون ہوں، اگر میں چاہوں تو دس منٹ میں تمہاری دکان بند کروا سکتا ہوں‘‘۔ دکاندار بیچارا ڈرا تو ضرور لیکن وہ اپنی جیب سے اتنی رقم نہیں بھر سکتا تھا۔ اُس نے رقم کی ادائیگی پر پھر زور دیا اور یہ بھی کہا کہ اُن کے گاہکوں میں اُسی میڈیا گروپ (جس سے رپورٹر صاحب کا تعلق ہے) کے کچھ اور صحافی بھی شامل ہیں۔ دکاندار نے دو ایک نام بھی لیے، جس پر رپورٹر صاحب وہاں سے Accessoryلے کر چلے گئے اور دس ہزار روپے دکاندار کو ٹرانسفر بھی کر دئیے مگر Accessory کے پیسے نہیں دئیے کیونکہ دکاندار کے مطابق‘ وہ رپورٹر صاحب کے بیٹے کے لیے زبردستی کا تحفہ تھا، جس کے پیسے اُس غریب نے

اپنی جیب سے بھرے۔دکاندار نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ان ملاقاتوں کے دوران رپورٹر صاحب نے اسے اپنے امریکہ کے دورے کی کہانی بھی سنائی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اُن رپورٹر صاحب کے پاس کون سی گاڑی ہے۔ یہ قصہ سناتے ہوئے دکاندار نے کہا کہ اُس کا دل چاہا کہ متعلقہ چینل کے مالکان کو شکایت کرے لیکن پھر اس نے سوچا نجانے اس کا کوئی فائدہ بھی ہو گا یا نہیں۔ پھر خود ہی بولا کہ صحافت میں بلیک میلرز بھی تو ہوتے ہیں۔ میں نے اُس بیچارے کو بتایا کہ وہ شکایت کرے گا بھی تو رپورٹر صاحب کا کچھ نہیں بگڑنا۔ میڈیا کے ادارے، مالکان، صحافتی تنظیموں نے اگر اپنی خود احتسابی کا کوئی سسٹم بنایا ہوتا تو ایسے واقعات کیوں ہوتے اور صحافیوں کو بلیک میلنگ اور کرپشن سے کیونکر جوڑا جاتا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…