پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

میری نند کا بیٹا میرے بیٹے سے زیادہ خوبصورت کیوں ہے؟ ممانی نے حسد میں نند کے ڈیڑھ سالہ بیٹے کو قتل کر دیا، بات یہاں ختم نہیں ہوتی جانتے ہیں درندہ صفت عورت نے واردات سے پہلے بچے کیساتھ کیا حرکت کی؟

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کھاریاں میں ڈیڑھ سالہ بچے کےبعداز اغوا اندھے قتل کے واقعہ کا ڈراپ سین، قاتل کوئی اور نہیں اپنی ہی ممانی نکلی، یہ بچہ میرے بیٹے سے زیادہ خوبصورت تھا دیکھ کر شدید حسد محسوس کرتی، برداشت نہ ہوا تو اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاش صندوق میں پھینک کر بند کر دی، درندہ صفت عورت نے پولیس تفتیش میں اعتراف جرم کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے کھاریاں میں ڈیڑھ سالہ بچے کے بعداز اغوا اندھے قتل کے واقعہ کا سراغ لگا لیا ہے۔ ڈیڑھ سالہ سلمان فیصل کو گزشتہ ہفتے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی لاش برآمد ہوئی تھی ، پولیس نے پہلے تو معاملے کو اندھا قتل قرار دیا تاہم قتل کی تحقیقات جاری رکھی گئیں جس کے دوران شک پڑنے پر جب پولیس نے ننھے سلمان کی ممانی سے تفتیش شروع کی تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔ ملزمہ نے پولیس تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ ننھے سلمان سے حسد محسوس کرتی تھی اسے جلن ہوتی تھی کہ اس کی نند کا بیٹا اس کے بیٹے سے زیادہ خوبصورت ہے اور اسی مکروہ حسد کے جذبے کے تحت اس نے ننھے سلمان کو اغوا کیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا ، یہی نہیں بلکہ اسکی لاش کو بے رحمی سے صندوق میں ڈال کر پھینک دیا۔ ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ بچے کو قتل سے قبل شدید تشدد کا نشانہ بناتی رہی جبکہ بچے کی لاش پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے تھے۔حسد کی آگ میں جھلس کرکی گئی اس درندگی پرننھے مقتول کے اہل خانہ اور قریبی عزیزوں ابھی تک سکتے کے عالم میں ہیں اور انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ کوئی ماں کسی دوسری ماں کی گود اس طرح بھی اجاڑ سکتی ہے۔ بچے کی والدہ اپنی بھابھی کے ہاتھوں اپنے ننھے بچے کے اندوہناک قتل پر غم سے نڈھال ہےاور اس پر ابھی تک غشی کے دورے پڑ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…