پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت نے 5ماہ میں قرضوں کے تمام گزشتہ ریکارڈ تور دئیے شتر بے مہار معیشت فلرٹ کرتے کرتےکہیں آشنا کے ساتھ فرار نہ ہو جائے !! حسن نثار نے کپتان کوکس برطانوی سیاستدان کی تقریر سننے کا مشورہ دیدیا

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال بلاشبہ اچھی نہیں اور ایسے میں حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ، معروف صحافی ، تجزیہ کار اور کالم نگار حسن نثار اپنے تازہ کالم میں لکھتے ہیں کہ چشم بددور، حضور پرنور، فیض گنجور، فخر جمہور، برکت قیدی نحوست مفرور! میں تو یہ پڑھ کر ہی لرز اٹھا ہوں کہ آپ کی حکومت نے 5ماہ میں

قرضوں کے تمام تر گزشتہ ریکارڈتوڑ دیئے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی دستاویزات کے مطابق آپ کا کل قرضہ 2240ارب روپیہ بنتا ہے جس میں 1334ارب غیر ملکی اور 906 ارب ملکی قرض شامل ہے۔ دروغ برگردن سٹیٹ بینک، بغیرکسی معجزے یا بہت ہی ’’آئوٹ آف بوکس‘‘ آئیڈیاکے یہ کمپنی چلتی نظر نہیں آتی۔ بزرگ کہا کرتے تھے کہ شبنم سے خالی کنویں کبھی نہیں بھرتے لیکن کنویں کیا یہاں تو کشکول بھرتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایام غنچگی میں ہی یہ حال ہے تو پھول کے پوری طرح کھلنے پر کیسے کیسے گل نہ کھلیں گے؟ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر معاشیات موجود ہے۔ فیورٹ اسد عمر بھی کسی کونے میں بیٹھ کر دہی چاول تناول کرتا رہے تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن ضرورت ایسے ماہرین کی ہے جو معیشت کے ساتھ ساتھ ملکی مزاج سے بھی بخوبی واقف ہوںورنہ اعلیٰ سے اعلیٰ یونیورسٹیوں کا تعلیم و تربیت یافتہ تمام تر بیرونی تجربہ کاری کے باوجود کچھ نہ کرسکے گا۔ ساری غیر ملکی تعلیم اور تجربہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ اصل بات یہ کہ بندہ معاشیات کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کے موڈ، مزاج اور پریکٹسز سے بھی آشنا ہو ورنہ یہ شتر بے مہار معیشت فلرٹ کرتے کرتےآشنا کے ساتھ فرار ہو جائے گی۔ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی بجائے پوری طرح اعتماد میں لینا بھی لازمی ہوگا۔ اس کا فوری ری ایکشن خوشگوار

نہ ہوگا لیکن ’’ان دی لانگ رن‘‘ یہی بہتر رہے گا۔Godfrey Bloomنامی برطانوی سیاستدان جو یورپین پارلیمنٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں، انہیں YOU TUBEپر سنئے جو کہتے ہیں کہ سیاستدان مسلسل پیسے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ آمدنی سے زیادہ خرچ کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک دیوالیہ، بدحال اور کنگال ہو جاتے ہیں۔ یہ نامعقول، جاہل اور غیر موثر

سیاستدان قرضے لیتے ہیں اور پھر لیتے ہی چلے جاتے ہیں۔ Bloom صاحب نے یہ دلچسپ نشان دہی بھی کی ہے کہ …’’ سیاستدانوں کے پاس مرکزی بینک میں ایک مشین ہوتی ہے جہاں کرنسی نوٹ پرنٹ ہوتے ہیں اور یہ جاہل نوٹ چھاپتے چلے جاتے ہیں جبکہ یہی کام کوئی غیرمنتخب عام شہری کرے تو یہ جرم ہے جس کی سزا جیل ہے۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ملک دیوالیہ اور کنگال اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کے سیاستدان احمق ہوتے ہیں اور یہ پرلے درجہ کی بداخلاقی ہے کہ ناکام سیاستدانوں کی نااہلی کی سزا عام لوگ مزید ٹیکسوں کی صورت میں بھگتیں۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…