پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

مختلف ممالک میں نادرا کے دفاتر کو کیوں بند کئے گئے ؟نوٹس لے لیاگیا،وزارت داخلہ کواحکامات جاری

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین وسابق وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے بیرون ملک پاکستانیوں کو پاسپورٹ و نادرا سے متعلق درپیش مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو پاسپورٹ ملنے میں دقت و ڈیلے کا سامنا ہے، وزارت داخلہ بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے پاسپورٹ و شناختی کارڈ بنوانے میں سہولتیں مہیا کرے ،بتایا جائے باہر مختلف ممالک میں نادرا کے دفاتر کو کیوں بند کئے گئے ہیں،

ہر شہر میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر قائم کرنے چاہئیں۔ پیر کو سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا اس موقع پر سینیٹر رحمان ملک نے بیرون ملک پاکستانیوں کو پاسپورٹ و نادرا سے متعلق درپیش مسائل کا وزارت داخلہ سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو پاسپورٹ ملنے میں دقّت و ڈیلے کا سامنا پیش ہو رہا ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی پاسپورٹ کیلئے آن لائن اپلائی کرتے ہیں جو پاکستان میں پروسیس ہوتے ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان میں پرنٹ ہوکر پاسپورٹس کو متعلقہ ملک میں بھیجے جاتے ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پاسپورٹ کی پرنٹ کی سہولت اگر متعلقہ ایمبسی میں دی جائے تو یہ وقت اور پیسے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے پاسپورٹ و شناختی کارڈ بنوانے میں سہولتیں مہیا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ باہر مختلف ممالک میں نادرا کے دفاتر کو کیوں بند کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک وارڈن یا کوئی شہری اگر کسی بچے کو بھیک مانگتے دیکھے تو فوری متعلقہ تھانے کو اطلاع دے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہر میں چائلڈ پروٹیکشن سنٹر قائم کرنے چاہئیں۔ رحمن ملک نے کہا کہ ہر صورت چائلڈ لیبر و بھیک مانگنا بند کرنا ہے۔ اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی، سینیٹر میاں عتیق شیخ، سینیٹر کلثوم پروین ،سینیٹر ستارہ ایاز اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے شرکت کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…