پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

وزیر بلدیات سندھ کے اچانک سرکاری محکموں پرچھاپے افسران سمیت کونسا پورا محکمہ ہی چھٹی پر نکلا؟سعید غنی سر پکڑ کر بیٹھ گئے کھڑے کھڑے کیا حکم جاری کر دیا؟

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(نیوز ڈیسک) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ محکموں میں افسران اور ملازمین اگر ڈیوٹیاں نہیں کرنا چاہتے تو وہ خود سے ہی گھر چلیں جائیں۔ سیاسی بنیادوں پر اگر کوئی ملازم یہ سمجھتا ہے کہ وہ ڈیوٹی نہیں کرے گا اور اسے تنخواہ ملے گی تو ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ ڈی جی ایس بی سی اے اوروہاں کے جو افسران کے ساتھ ساتھ کے ڈی اے اور ایل ڈی اے میں جو افسران اور

ملازمین وقت پر نہیں آئے ہیں ان سب کو شوکاز نوٹس جاری کئے جائیں اور ان کی ایک روز کی تنخواہ کاٹ کر اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز صبح 9.00 بجے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) اور لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے مرکزی دفاتر کے اچانک دورے کے موقع پر کیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی جب صبح 9.00 بجے ایس بی سی اے کے مرکزی دفتر پہنچیں تو وہاں ڈی جی افتخار قائمخانی سمیت کوئی بھی افسر موجود نہیں تھا، جس پر انہوںنے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری بلدیات کو فوری طور پر ڈی جی اور تمام افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور غیر حاضر تمام ملازمین کی ایک روز کی تنخواہ کاٹنے کی ہدایات کی۔ بعد ازاں وہ کے ڈی اے کے مرکزی دفتر پہنچیں تو وہاں ڈی جی سمیع صدیقی اور چند ڈائریکٹرز موجود تھے تاہم ملازمین اور افسران کی ایک بڑی تعداد غیر حاضر تھی۔ صوبائی وزیر نے خود وہاں حاضری رجسٹر منگوا کر جو جو ملازمین غیر حاضر تھے ان کی غیر ضاحری لگائی اور ڈی جی سمیع صدیقی کو ہدایات دی کہ جو جو ڈائریکٹرز اور افسران موجود نہیں ان کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان کی فہرست انہیں فراہم کی جائے اور جو ملازمین نہیں آئے ان کی تنخوائیں کاٹی جائیں۔ اس موقع پر انہوںنے ملازمین اور افسران کی غیر حاضری پر شدید

برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چار ماہ کے بعد بھی اگر افسران اور ملازمین اپنی ڈیوٹیوں پر وقت پر نہیں آتے تو اب شاید انہیں نوکری کی بجائے گھروں پر چلا جانا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سیاسی چھتری میں ہے تو واضح کردوں کہ کسی کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو اس کو کوئی رعایت نہیں ہے اور انہیں اپنے مقررہ وقت پر ڈیوٹی پر آنا ہوگا اور آئندہ میں

جب بھی وزٹ کروں گا اور ملازمین یا افسران موجود نہیں ہوئے تو پھر شوکاز اور تنخوائیں کاٹنے کی بجائے انہیں فارغ کردینا پڑے گا۔ انہوںنے موجود ڈی جی کے ڈی اے اور تمام ڈائریکٹرز کو تنبہہ کی کہ حاضری کی وقت پر یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے اور وہ روزانہ صبح 9.00 بجے سے قبل دفاتر آئیں اور خود اپنے اپنے ڈپارٹمنٹ میں وزٹ کرکے جو جو افسران اور ملازمین وقت پر نہیں آتے

ان کی رپورٹ مرتب کرکے انہیں دیں تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر ایم ڈی اے کے مرکزی دفتر پہنچیں تو وہاں بھی افسران اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد غیر حاضر تھی جبکہ ڈی جی ایل ڈی اے پہلے ہی میڈیکل چھٹیوں پر ہیں، جس پر صوبائی وزیر نے فوری طور پر جو جو ملازمین اور افسران غیر حاضر تھے ان کی فہرست مرتب کرنے اور ان تمام کو

شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ان کی تنخوائیں کاٹنے کی ہدایات دی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین شاید یہ سمجھ بیٹھیں ہیں کہ میں صبح صبح نہیں آسکتا تو میں ان کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ میں کسی روز بھی اور کسی بھی وقت آسکتا ہوں اور میں اب آئوں گا اور افسران اور ملازمین موجود نہیں ہوئے تو ان کو گھروں پر بھی بھیج دوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…