اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی نوجوان منان علی میرانی نومبر سے بھارت کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ،علاج کیلئے پیسے بھی ختم ہوگئے

datetime 31  دسمبر‬‮  2018 |

حیدر آباد (این این آئی)حیدرآباد کا 17 سالہ نوجوان منان علی میرانی نومبر سے بھارت کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اور علاج کے اخراجات نے منان کے والدین کی مفلسی میں مزید اضافہ کردیا ہے جس کے باعث ان کی آنکھیں بسترِ مرگ پر لیٹے اپنے جواں سال کے علاج کیلئے کسی مسیحا یا حکومتی امداد کی منتظر ہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ مطابق حیدرآباد کے رہائشی مدد علی میرانی محکمہ تعلیم میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات ہیں،

2016 میں مدد علی کے گھر اس وقت مصیبتوں نے بسیرا کرلیا جب ڈاکٹروں نے انہیں ان کے 17 سالہ بیٹے منان علی کی بیماری کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک دل کی نہایت پیچیدہ اور جان لیوا بیماری کا شکار ہے۔ ڈاکٹروں نے منان کے فوری آپریشن کا مشورہ دیا لیکن نوجوان کے دل کا آپریشن صرف پڑوسی ملک بھارت میں ہی ممکن تھا۔مدد علی نے اپنے لختِ جگر کے علاج کے لیے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے 55 کلومیٹر دور واقع جے پی ہسپتال سے رابطہ کیا اور معلومات حاصل کیں، بے بس باپ نے منان کے علاج کیلئے رقم ہسپتال میں جمع کرائی اور بیٹے کی زندگی بچانے کی آس لیے بھارت جا پہنچا۔منان علی میران کا پہلا آپریشن تو کامیاب ہوا تاہم جے پی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے اگلے برس یعنی 2017 میں دوسرے آپریشن کیلئے دوبارہ ہسپتال آنے کا کہا۔ہسپتال انتظامیہ نے منان کے دوسرے آپریشن پر 12 لاکھ روپے کی خطیر رقم کا خرچ بتایا تو باپ کے ہاتھوں میں سوائے لکیروں اور آنکھوں میں آنسوؤں کے کچھ نہ تھا۔کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے مدد علی نے اپنی آنکھوں کی روشنی اپنی اولاد کو بچانے کیلئے اپنی اہلیہ یعنی منان کی ماں کے زیور اور قیمتی اشیا کو قربان چڑھایا اور اپنی جمع پونجی لگا کر بیٹے کے علاج کے لیے 12 لاکھ بھارتی روپے ہسپتال میں جمع کرائے تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود ان کی آنکھوں میں سجے خواب پڑمردہ ہی رہے اور ان کے بیٹے کی بیماری مزید خطرناک صورت اختیار کرگئی۔

نومبر 2018 کو مدد علی اور ان کی اہلیہ فرزانہ میرانی اپنے جگر گوشے کو لیکر جے پی ہسپتال پہنچے جہاں 15 تاریخ کو نوجوان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بھی ڈاکٹروں نے لاچار ماں باپ کو کوئی مڑدہ نہ سنایا۔ڈاکٹروں کے مطابق منان کے پھیپھڑوں میں خون کا رساؤ شروع ہوگیا جس کی وجہ سے اسے بقیدِ حیات رکھنے کیلئے مصنوعی تنفس فراہم کرنے والی مشین پر منتقل کردیا گیا۔ہسپتال انتظامیہ نے مصیبتوں میں گھرے والدین کو ایک بار پھر 15 سے 20 لاکھ روپے جمع کرانے کا کہا جس سے ان کے حوصلے معدوم ہوگئے اور وہ اپنے جواں سال بیٹے کی زندگی کا دیا روشن رکھنے کے لیے مسیحا یا حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…