منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

غیرت کے نام پر 4 خواتین و مردوں کا بیدردی سے قتل،مارنے والے کون نکلے؟پولیس نے ابتدائی تفصیلات جاری کردیں

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

شانگلہ(این این آئی)خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقے کوہستان کے بالائی حصے’لوتر‘ میں غیرت کے نام پر 2 لڑکے اور 2 لڑکیوں کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) راجہ عبدالصبور نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ قتل ہونے والے افراد پر خاندانی جرگے میں ناجائز تعلقات کا الزام لگا کر چاروں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔پولیس کے مطابق قتل ہونے والے چاروں خواتین و مرد آپس میں رشتہ دار تھے جنہیں ان کے خاندان والوں نے ہی قتل کیا۔

ڈی پی او بالائی کوہستان کے مطابق پولیس نے قتل کی ایف آئی درج کرلی ہے اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔پولیس کے مطابق قتل کا واقعہ رات گئے پیش آیا جس کے مقدمے کے اندراج کے بعد قاتلوں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کوہستان میں ایک شادی میں شریک لڑکیوں کی لڑکوں کے رقص کرنے پر تالیاں بجانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انہیں قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعہ کا ڈراپ سین 6 سال بعد رواں ماہ 3 دسمبر کو سامنے آیا تھا جب ان لڑکیوں کے 4 گرفتار رشتہ داروں نے لڑکیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزمان نے لڑکیوں کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا اعتراف کی جس کے بعد ان کی لاشیں دریا میں بہا دی گئیں تھیں جبکہ ویڈیو میں نظر آنے والی 2 لڑکیاں زندہ ہیں ا سکے ساتھ رقص کرنے والے لڑکوں کے 3 بھائیوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔2012یاد رہے کہ میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک نوجوان نے میڈیا پر آکر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 2 چھوٹے بھائیوں نے شادی کی ایک تقریب کے دوران رقص کیا جس پر وہاں موجود خواتین نے تالیاں بجائیں۔تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی جس پر ایک مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔

بعد ازاں ان لڑکیوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں تاہم میڈیا پر یہ رپورٹس سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جس پر وفاقی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تردید کی تھی، بعدازاں سپریم کورٹ کے حکم پر کوہستان جانے والی ٹیم کے ارکان نے بھی لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی تھی ٗمذکورہ واقعے کی تحقیقات کے عدالت سے ایک مرتبہ پھر رجوع کرنے والے شخص نے موقف اختیار کیا تھا کہ جرگے کے حکم پر 4 لڑکیوں اور 3 لڑکوں کو قتل کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…