جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

توہین عدالت کیس، مجھے معاف کر دیں۔۔۔ عامر لیاقت کی چیف جسٹس، جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمن سے بھری عدالت میں معافیاں، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میںمعروف اینکر اور پی ٹی آئی کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی معافی قبول کر لی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عامر لیاقت حسین کے خلاف توہین عدالت کے کیس کی سماعت کی۔ عامر لیاقت حسین نے ایک بار پھر خود کو عدالت کے

رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے غیر مشروط معافی کی استدعا کی جسے عدالت عظمیٰ نے قبول کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔ ملزم نے عدالت کے فاضل ججز کے نام لے لے کر اور جنگ ،جیو کے سربراہ میر شکیل الرحمان اور ان کے صاحبزادے میر ابراہیم سے بھی معافی مانگی ۔ دوران سماعت عامر لیاقت حسین کے وکیل رضوان عباسی پیش ہوئے اور کہا کہ میرا موکل تہہ دل سے معافی کا خواستگار ہے ،اور یہ غیر مشروط طور پر معافی مانگتا ہے ، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عامر لیاقت کے چہرے سے تو نہیں لگتا کہ یہ معافی مانگ رہے ہیں ،جس پر عامر نے کہاکہ میں نے آپ سمیت اس کیس کی سماعت کرنے والے تمام ججز، مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس عمر عطا بندیال اورجسٹس سجاد علی شاہ کو ان کے چیمبرز میں اپنامعافی نامہ بھجوایا ہے او رسب سے معافی کا خواستگار ہوں،دوران سماعت جنگ جیو کے وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ میرے موکل نے مجھے ملزم کومعافی ملنے کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت کے مقدمات میں معاملہ توہین عدالت کے مرتکب اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے ، جسپر عامر لیاقت نے ایک بار پھر کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں،انتہائی عاجزی و انکساری سے جھک کرمعافی مانگتا ہوں،اور اس یقین کے ساتھ معافی مانگ رہا ہوں کہ اگر آئندہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت ہوئی تو عدالت مجھے بے شک معافی کا حق نہ دے،

چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے بہت عرصہ تک میر شکیل الرحمان کے ساتھ کام کیا ہے عدالت اپنے حکم میں لکھے گی کہ آپ نے میر شکیل الرحمان اور ان کے صاحبزادے میر ابراہیم سے بھی معافی مانگی ہے،جس پر عامر لیاقت نے کہاکہ میں میرشکیل الرحمان ،میر ابراہیم اور جنگ جیو سے بھی معافی مانگتا ہوں،اگر میری کسی بھی بات سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں اور

یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا،جس پرفاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ویسے ڈاکٹر صاحب، آپ اچھے مقرر ہیں،آپ نے جو الفاظ کہے ہیں ہم انہیں اپنے حکم کا حصہ بنالیں گے ،اور اگر کبھی آئندہ عدالت کے کسی حکم کی عدولی کی گئی تو معافی نہیں ملے گی ،بعد ازاں فاضل عدالت نے عامر لیاقت کا غیر مشروط معافی نامہ قبول کرتے ہوئے اس کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ واپس لیتے ہوئے معاملہ نمٹادیا ۔عامر لیاقت کی جانب سے جاری ایک ویڈیوپیغام میں بھی یہ بات کہی گئی کہ آج انہوں نے سپریم کورٹ ‘میرشکیل الرحمن ‘میر ابراہیم اور جنگ جیو سے معافی مانگ لی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…