ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

’’چلیں انڈسڑی کے ساتھ بحریہ ٹاؤن کو بھی فائدہ ہوجائے گا‘‘ چیف جسٹس نے بڑی پابندی سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا،احکامات جاری

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) سپریم کورٹ نے شہر قائد میں 6 منزلہ سے زائد تعمیرات پر پابندی سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا۔منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز(آباد) کے چیئرمین حسن بخشی کی درخواست سماعت کی۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے شہر قائد میں 6 منزلہ سے زائد تعمیرات پر پابندی سے متعلق فیصلہ واپس لے لیا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کے مطابق ہائی رائز تعمیرات کی جاسکتی ہیں۔عدالت نے شہر میں قانون کے مطابق تعمیرات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چلیں انڈسڑی کے ساتھ بحریہ ٹاؤن کو بھی فائدہ ہوجائے گا۔سپریم کورٹ نے چھ ماہ قبل کراچی میں ہائی رائز تعمیرات پر پابندی عائد کی تھی۔درخواست گزار آباد حسن بخشی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بڑا مسئلہ تھا، ہم سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے قانون کے مطابق بلڈنگز بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے کہاکہ پابندی کے سبب 500 پراجیکٹس رکے ہوئے تھے اور مزید 500 پراجیکٹس کا مٹیریل تیار تھا وہ کام رکا ہوا تھا۔حسن بخشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم قانون کا احترام کرتے ہیں اور ایس بی سی اے کے ساتھ تعاون کریں گے، ہم ٹیکس ادا کرنے والے ہیں اور وزیراعظم کی ہاؤسنگ اسکیم میں ہم تعاون کرنے کے خواہاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…