جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

علیمہ خان کی اربوں روپے کی بے نامی جائیداد پر نیب اور چیف جسٹس کی خاموشی سوالیہ نشان ہے،اہم سیاسی شخصیت نے کھری کھری سنادیں

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں جاری احتساب صرف سیاسی مخالفین کیلئے ہے اور نیب حکومت کے اشاروں پرکٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقتدر قوتیں مخصوص شخص اور جماعت کو اقتدار حوالہ کرنے کے بعد پانامہ سکینڈل پر خاموش ہو گئی ہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ پانامہ کو سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کیا گیا جبکہ علیمہ خان کی اربوں روپے کی بے نامی

جائیداد پر خاموشی نیب اور چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشن پر سوالیہ نشان ہیں، انہوں نے کہا کہ احتساب سب کا بلا امتیاز ہونا چاہئے اور بہتر ہوتا یہ احتساب وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے شروع کیا جاتا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والی قوتیں ملکی حالات اور معیشت کی تباہ کن صورتحال پر انگشت بدندان ہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی بھی طرح بھاگنے کی کوشش کریں گے تاہم انہیں ہم بھاگنے نہیں دیں گے عوام کو سو دن کے جو سہانے خواب دکھائے گئے ان کی تعبیر سامنے لانا ہوگی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے کیونکہ پی ٹی آئی تاریخ میں پہلی اور آخری بار حکومت میں آئی ہے ، انہوں نے کہا کہ بیساکھیوں کے سہارے کھڑی حکومت سو دن میں ایکسپوز ہو چکی ہے اور ملکی معیشت کو تباہی سے دوچار کر دیا گیا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں نے تجاوزات کے نام پر ہزاروں خاندان کو بے روزگار کر دیا ہے جبکہ پچاس لاکھ گھروں کے وعدے پر شیلٹر ہوم سے پردہ ڈالا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اے این پی طویل عرصہ سے ان پالیسیوں کو ری وزٹ کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان امن مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار تمام سٹیک ہولڈرز کی صدق دل سے کی جانے والی کوششوں پر ہے ،انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات افغانستان سمیت پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے انتہائی اہمیت کے ھامل ہیں اور اگر طالبان نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا تو پاکستان اس کے بھیانک نتائج کی زد میں آجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…