جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کو بنجر بنانے کیلئے بھارت اب کیا کام کرنیوالا ہے؟ وفاقی وزیر کے سنسنی خیز انکشافات، پاکستانیوں کو تشویشناک خبر سنا دی

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کی آبی جارحیت کا نوٹس لے اور عالمی بینک اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے ٗبھارت یکطرفہ طور پہ سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا ٗخاتمے کے لیے باہمی رضامندی درکار ہوگی۔ پیر کو وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے

سنٹر فارگلوبل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام ’’پانی اور بر صغیر میں مستقبل میں جنگ اور امن‘‘کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کے عالمی برادری کو سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں پانی کے تنازعات کا آغاز 1948سے ہو گیا تھا اور دونوں ممالک اس مسئلے پر دو جنگیں لڑ چکے ہیں گو کہ 1960میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ بہت عرصے تک کامیابی سے چلتا رہا مگر بھارت نے دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کا صنعتی استعمال کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ بھارت صرف اسی صورت اس پانی کا استعمال بجلی پیدا کرنے کے لیئے کر سکتا تھا اگر اس سے پاکستان کو پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ بھارت یکطرفہ طور پہ سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا اس کو ختم کرنے کے لیے باہمی رضامندی درکار۔ بھارت جہلم اور چناب کے پانی پر ڈیمز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے ھارت یکطرفہ طور پہ سندھ طاس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا اس کو ختم کرنے کے لیے باہمی رضامندی درکار۔ بھارت جہلم اور چناب کے پانی پر ڈیمز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔جو ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کے عالمی برادری بھارت کی آبی جارحیت کا نوٹس لے اور عالمی بینک اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔ بھارت دریائے جہلم اور چناب کے پانی پر ڈیمز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…