منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وکلا نے تحریک شروع کر دی ، پنجاب کے بڑے شہروں میں عدالتوں کو تالے، دھرنے کا اعلان کر دیا گیا، وجہ کیا بنی؟

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

فیصل آباد/گوجرانوالہ(نیوز ڈیسک ) پنجاب کے مختلف شہروں میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے 25 ویں روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رہا ، وکلا نے 13 دسمبر کو لاہور میں دھرنے کا اعلان کر دیا ، عدالتوں میں آنے والے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا ،وکلا کی جانب سے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کے دوران عدالتوں کے داخلی راستوں کو تالے لگا د یئے،گوجرانوالہ میں وکلا

نے عدالتوں کے علاوہ ڈپٹی کمشنر آفس، تحصیل آفس، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر آفس کی بھی تالہ بندی کر رکھی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد، چنیوٹ، گوجرانوالہ، جھنگ، ساہیوال، سرگودھا سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے وکلا کی ہڑتال بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے عدالتوں میں آنے والے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔وکلا کی جانب سے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کے دوران عدالتوں کے داخلی راستوں کو تالے لگا دیے جاتے ہیں اور سائلین کو عدالتوں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے جب کہ ججز وکلا کی عدم پیشی کے باعث مقدمات کو بغیر سماعت کے اگلی تاریخوں پر منتقل کر رہے ہیں۔مظاہرین وکلا کا کہنا ہے کہ ہم سے متعدد بار ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے وعدے کیے گئے ہیں لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے جب کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی تین بار ہائی کورٹ بینچ کے قیام کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال بینچ قائم نہیں کیا جا رہا ہے۔گوجرانوالہ بار ایسی ایشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ گزشتہ 30 سال سے ہائی کورٹ کے علاقائی بینچ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں لیکن ہم سے صرف وعدے ہی کیے جاتے ہیں۔وکلا کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ بینچ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گوجرانوالہ میں وکلا نے عدالتوں کے علاوہ ڈپٹی کمشنر آفس، تحصیل آفس، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر آفس کی بھی تالہ بندی کر رکھی ہے۔وکلا کی جانب سے ہائی کورٹ بینچ کے قیام تک احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ وکلا کی جانب سے 13 دسمبر کو لاہور میں دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…