ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

مولانا سمیع الحق کے بیٹے حامد الحق کو اہم ترین عہدہ دیدیا گیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) دفاع پاکستان کونسل کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں امیر جماعۃ الدعوہ حافظ محمد سعید کی میزبانی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شریک مذہبی و سیاسی قائدین نے متفقہ طور پر جمعیت علما اسلام(س)کے سربراہ اور مولانا سمیع الحق شہید کے صاحبزادے مولانا حامد الحق حقانی کو دفاع پاکستان کونسل کا چیئرمین منتخب کیا ۔

اجلاس میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت گری کیخلاف اور فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے ملک گیر سطح پر بھرپور جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔اسی سلسلے میں 16 دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کے موقع پر لاہور میں بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی نگرانی میں سات رکنی سٹیئرنگ کمیٹی کام کرے گی جبکہ محمد یعقوب شیخ دفاع پاکستان کونسل کے چیف کوآرڈینیٹر ہوں گے۔دفاع پاکستان کونسل کو فعال اور قومی سطح پر سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا۔یہ فیصلے جماعۃ الدعوۃ کی میزبانی میں مرکز قبا آئی ایٹ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں کئے گئے ہیں۔مولانا سمیع الحق کی شہادت کے بعد دفاع پاکستان کونسل کا یہ پہلا باقاعدہ مشاورتی اجلاس تھا۔اس موقع پر مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے بہیمانہ قتل کی کڑیاں دہلی اور کابل سے ملتی ہیں، ان کے قاتلوں کو فی الفور گرفتارکیا جائے۔ اس دوران ان کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔اجلاس میں امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، جمعیت علمااسلام (س)کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، جے یو پی اور ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ابو الخیر زبیر، اہل سنت و الجماعۃ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی، انصار الامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل

پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، محمد یعقوب شیخ، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرف فاروقی، جمعیت علماء اسلام کے ترجمان مولانا سید یوسف شاہ،تحریک نوجوانان کے سربراہ عبداللہ حمید گل ، حافظ عبدالغفار روپڑی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری و دیگر قائدین نے شرکت کی۔اجلاس میں مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان اور مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق کسی مجبوری کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے انہوں نے بھی اجلاس کے ان فیصلوں کی تائید کی۔

دفاع پاکستان کونسل کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر دفاع پاکستان کونسل کے نومنتخب چیئرمین مولانا حامد الحق حقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا سمیع الحق کی شہادت سے پوری امت مسلمہ کے دل زخمی ہوئے ہیں،حکومت ان کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائے،انہیں شہید اسلام اور شہید پاکستان کا ایوارڈ دے ،انہوں نے کہاکہ میں تمام قائدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مولانا سمیع الحق کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اْن کے مشن کو تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے جاری رکھنے کا عہد کیااور مجھ پر دفاع پاکستان کونسل کی قیادت کا بوجھ ڈالا۔

سب سیاسی و مذہبی قائدین ہم سب کے دست وبازو ہیں،ان کے ساتھ مل کر ہم اسلام اور پاکستان کے دفاع کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ ہم نے پورے پاکستان اور ملت اسلامیہ کیلئے آواز بلند کرنی ہے اور ہم ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیں گے ۔ پاکستان کی ترقی اور حفاظت کیلئے بھرپور جدوجہد کریں گے ،یہ ملک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے اور اس کے نفاذ کے لئے ہم آخر دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے ۔امیر جماعۃ الدعوہ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے میدان عمل میں موجود ہوگی۔ناموس رسالت اور ختم نبوت پر کسی کو ڈاکہ نہیں مارنے دیا جائیگا۔اجلاس سے دیگر قائدین نے بھی خطاب کیااور دفاع پاکستان کونسل کو بھرپورانداز میں فعال کرنے کا عہد کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…