جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے پورا ایک علاقہ قطری شہزادے کو دیدیا ساتھ ہی صرف ایک لاکھ ڈالر کے عوض کیا کام کرنیکی اجازت دیدی ؟

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے عرب شہزادوں کو قیمتی اورنایاب پرندوں کے شکار کے پرمٹ جاری کر دئیے، ایک پورا علاقہ قطرے شہزادے کو تلور کے شکر کیلئے صرف ایک لاکھ ڈالر کے عوض دس روز کیلئے دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق موسم سرما شروع ہوتے ہی پاکستان میں دنیا کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنیوالے نایاب قیمتی پرندوں کے

شکار کا سیزن بھی شروع ہو چکا ہے اور غیر ملکی شکاری اس بار بھی شکار کیلئے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں ۔ ہر بار کی طرح اس بار کی عرب شہزادوں نے نایاب اور قیمتی پرندے تلور کے شکار کیلئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور وفاقی حکومت نے عرب شہزادوں کو بلوچستان میں قیمتی اور نایاب پرندوں کے شکار کیلئے پرمٹ جاری کر دئیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے 15 سے زائد علاقوں میں شکار کے لیےاجازت دی گئی ہے جبکہ ایک پورا علاقہ قطر کے شہزادے کو دیا گیاجہاں نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے صرف ایک لاکھ ڈالر کے عوض دس روز کا پرمٹ دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 15سے زائد علاقے غیر ملکیوں کو الاٹ کرنے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے صرف دس روز کیلئے15 سے زائد علاقے غیر ملکیوں کو الاٹ کئے ہیں۔ قانون و قواعد کے مطابق عرب شہزادے سے ایک لاکھ ڈالر کی باقاعدہ فیس وصول کی گئی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ عرب شہزادوں کو شکار کے پرمٹ وزارت خارجہ کے توسط سے جاری ہوئے ہیں اور اس حوالے سے پہلے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا ہے۔ قطر کے شہزادے کو ایک لاکھ ڈالر جمع کروانے پر سو تلور مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔قطری شہزادے کو ضلع جھل مگسی کا علاقے الاٹ کیا گیا ہے جہاں ان کو حکام کے بقول صرف ایک سو تلور مارنے کی اجازت ہو گی، تاہم اجازت نامے میں یہ واضح نہیں کہ اس ایک سو تلور کی مانٹیرنگ یا حساب کو ن کرے گا کیونکہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر کسی کو بھی عرب شیوخ کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…