جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

امتیاز وزیر نامی شخص شہید ایس پی طاہر داڑو کی میت کو منظور پشیتن کے حوالےکرنے پر کیوںبضد تھا ؟اس کے پیچھےبڑی وجہ کیا تھی ؟ تہلکہ خیز انکشافات میں سب سامنے آگیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)شہید ایس پی طاہر داڑو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر کافی مقبول ہو گئی ہے جس میں وہ پی ٹی ایم کے مظاہرین کو سمجھا رہے ہیں پاکستان کو دہشتگردی کے سنگین خطرات لاحق ہیں اور ان کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ افغانستان ،بھارت ، سی آئی اے اور را شامل ہیں ۔ شہید ایس پی نے ویڈیو پیغام میں مظاہرین کو سمجھا یا ہے کہ پاکستان کیخلاف گھنائونی سازشوں میں

خاص کر پشاور شہر میںعالمی دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان ، سی آئی اے اور’ را‘ ملوث ہیں ۔ طاہر داڑو کی میت تاخیر سے حوالگی کیوں کی گئی ، اندرکا قصہ سامنے آگیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک افغان مذاکرات میں امتیاز وزیر نامی شخص افغان حکام کی قیادت کر رہا تھا ۔ مذاکرات کرنے والے شخص امتیاز وزیر کا رویہ کافی جارحانہ تھا اور وہ اس بات پر بضد تھا کہ طاہر داڑو کی میت صرف منظور پشتین کے حوالے کی جائے ۔ محسن داڑو اور امتیاز وزیر کی آپس میں تقریباً 10منٹ تک گفتگو کا سلسلہ چلا ۔ اس معاملے پر ذرائع کا کہنا تھا کہ امتیاز وزیر اور محسن داڑو پہلے ایک دوسرے واقف لگ رہے تھے ۔ محسن داڑو نے امتیاز وزیر کو راضی کیا کہ میت عمائدین کے حوالے کر دی جائے گی ۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ امتیاز وزیر اس وقت افغانستان کے شہر کابل میں فائیو سٹار ہوٹل میں رہ رہا ہے ۔ تاہم اس کے افغان صدر اشرف غنی کا قریبی ساتھی سمجھا جارہا ہے ۔ امتیاز کا تعلق سپیم وام ششی خیل کے علاقے سے ہے ۔ امتیاز وزیر 2013ء میں پاکستان آیا تھا اس نے اے این پی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑاتھا ۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…