جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایس پی پشاور طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغواء ،حکومت کی مجرمانہ غفلت کاپرد ہ چاک ،عوام کو حقائق بتانے کی بجائے پردہ ڈ ا لنا شروع کر دیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) مقتول ایس پی پشاور طاہر داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء نے اربوں روپے مالیت کے600سیف سٹی کیمروں کی حقیقت کا پردہ بھی کھول دیا ہے، وفاقی حکومت نے عوام کو حقائق بتانے کی بجائے مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈا لنا شروع کر دیا،

تفصیلات کے مطابق 26اکتوبر کو اسلام آباد کے تھانہ رمنا کے قریب سے اغواء کئے جانے والے مقتول ایس پی طاہر داوڑ کے اغواء سے یہ راز بھی فاش ہو گیا ہے کہ سیف سٹی کے نام پر اسلام آباد کی شاہراہوں اور گلیوں میں لگائے گئے 600 سیف سٹی کیمرے اس وقت حکومتی لاپرواہی کے باعث بند پڑے ہوئے ہیں اور وفاقی دارالحکومت اس وقت مجرمانہ سرگرمیوں کی آماجگاہ بناہوا ہے، سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت 600کیمروں کے اخراجات پہلے چائینہ کمپنی برداشت کرتی رہی ہے لیکن اخراجات کی ادائیگی نہ ہونے سے ان کیمروں کو غیر مؤثر کر دیا گیا ہے، دو ماہ پہلے اقتدار سنبھالنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کو اگر چہ اس کا علم تھا اور معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کو وزارت سنبھالتے ہی ان کیمروں کی حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کی طرف سے ان کیمروں کی بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، موصوف کی طرف سے گزشتہ روز پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ جہاں سے طاہر داوڑ کا اغواء ہوا وہاں پر کیمرے کام نہیں کر رہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورے شہرکے کیمرے مفلوج ہو چکے ہیں، اور وزارت داخلہ انکی بحالی کیلئے تاحال فنڈز کا انتظام نہیں کرپائی ہے، یہ صورتحال اسلام آباد کے شہریوں کیلئے قابل تشویش سمجھی جارہی ہے۔  مقتول ایس پی پشاور طاہر داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء نے اربوں روپے مالیت کے600سیف سٹی کیمروں کی حقیقت کا پردہ بھی کھول دیا ہے، وفاقی حکومت نے عوام کو حقائق بتانے کی بجائے مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈا لنا شروع کر دیا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…