جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مہاجرین کا بوجھ،قرض اور امدادمیں فرق کوملحوظ خاطر رکھاجائے! پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)پاکستان نے عالمی برادری پرزور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کی میزبانی کرنیوالے ممالک کو قرض دینے کی بجائے ان کی مالی مدد کرے اور ترقی اور انسانی ہمدردری کی بنیاد پر امداد میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھے ، جنگوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لوگوں کے طویل عرصہ سے بے گھر ہونے کی صورتحال نے وباؤں کی شکل اختیار کر لی ہے،

پاکستان نے معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے کے عالمی اصولوں کے تحت افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی کمیٹی برائے سماجی، انسانی و ثقافتی امور کو ایک مباحثے کے دوران کہا کہ دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بلند ترین سطح پر ہے، یہ مسئلہ ایک بڑی تباہی میں بدل سکتا ہے اس لئے عالمی برادری مہاجرین کے عالمی بحران کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنگیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور لوگوں کے طویل عرصہ سے بے گھر ہونے کی صورتحال نے وباؤں کی شکل اختیار کر لی ہے۔اس صورتحال کا سامنا کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری اس پر فوری توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت شام، میانمار، فلسطین، افغانستان اور جنوبی سوڈان میں موجود صورتحال کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو رہے ہیں۔85 فیصد مہاجرین کا سب سے زیادہ بوجھ کم اور اوسط آمدنی والے ممالک اٹھا رہے ہیں جبکہ ترقی یافتہ اور امیر ممالک پناہ کی درخواستیں مسترد کرکے مہاجرین کا بوجھ اٹھانے سے فرار کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی ذمہ داری میں آنیوالے مہاجرین کا ساٹھ فیصد صرف دس ممالک میں مقیم ہے۔دوسری طرف پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو کئی عشروں تک اپنے ہاں پناہ دے کر بے مثال فیاضی اور دریا دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی تعداد دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی ایک ملک میں قیام پذیر مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے اس کے باوجود ہم نے ان کے لئے اپنے ملک میں اور اپنے دلوں میں جگہ بنائی ہے کیونکہ یہ ہمارا انسانی اور دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین کو تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی اصولوں کے تحت افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی ہے۔عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کو قرضوں کی بجائے ان کی مالی مدد کرے اور اس سلسلہ میں ترقی اور انسانی ہمدردری کی بنیاد پر امداد میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھے ۔انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے مسئلہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے اس کی بنیادی وجوہات بشمول تنازعات کے سیاسی حل پر بھی توجہ دی جائے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…