پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آڈٹ رپورٹ: پی آئی اے کی تباہی کی وجوہ سامنے آگئیں،قومی خزانے کو کیسے لوٹاگیا؟ہوشربا انکشافات 

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزکو گزشتہ 9سال کے دوران 7ارب روپے سے زائد نقصان ہوا۔ اس بات کا انکشاف پی آئی اے کی آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا جبکہ ادارے کی تباہی کے محرکات بھی منظرعام پرآگئے ہیں۔رپورٹ میں 2008 سے 2017 تک پی آئی اے کے کرپٹ اورنااہل افسروں کی کارکردگی کے بارے میں بھی ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈیلی ویجززکی بھرتی پر2409 ملین اورپائلٹس کی زائدادائیگیوں پر1437 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ 457 جعلی ڈگریوں والے افسر اور ملازمین کی بھرتیوں سے کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 4922 کنٹریکٹ ملازمین کوخلاف قانون ریگولرکرنے پربھی پی آئی اے کو 101 ملین روپے کا بوجھ اٹھانا پڑا جبکہ ادارے کو ٹرینی افسروں کی بھرتی پر901 ملین اور سیاسی اثرورسوخ سے بیرون ملک اسٹیشنزپرتعیناتوں ملازمین سے983 ملین کا نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق پی آئی اے ملازمین کو سستی گاڑیاں دینے کی مد میں 71 ملین، حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر تعینات لیگل کنسلٹنٹ کی تقرری سے 31 ملین اورغیرقانونی سبسڈی دینے پر38 ملین کا خسارہ ہوا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق 1040 ملین روپیکی دواں میڈیکل اسٹوروں سے خریدی گئی مگر ان کا بل پی آئی اے کو ادا کرنا پڑا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزکو گزشتہ 9سال کے دوران 7ارب روپے سے زائد نقصان ہوا۔ اس بات کا انکشاف پی آئی اے کی آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا جبکہ ادارے کی تباہی کے محرکات بھی منظرعام پرآگئے ہیں۔رپورٹ میں 2008 سے 2017 تک پی آئی اے کے کرپٹ اورنااہل افسروں کی کارکردگی کے بارے میں بھی ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈیلی ویجززکی بھرتی پر2409 ملین اورپائلٹس کی زائدادائیگیوں پر1437 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…