بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس، احسن جمیل گجر نے اپنا رنگ دکھا دیا چیف جسٹس کے حکم پر کی گئی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق کھل کر سامنے آگئے

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں احسن جمیل گجر نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا تے ہوئے کہا ہے کہ خالق داد لک کی رپورٹ مبہم اور غیر واضح ،انکوائری افسر نے حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ، وزیر اعلی پنجاب کے پاس جو بات کی گئی تھی وہ نیک نیتی اور قواعد و ضوابط کے مطابق تھی اور میں نے کسی بھی انتظامی امور میں مداخلت نہیں کی،میری حد تک ہونے والی

عدالتی کارروائی کو ختم کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے دست راز احسن جمیل گجر نے سربراہ نیکٹا کی رپورٹ پر سنگین اعتراضات اٹھا دیئے ۔ احسن جمیل گجر کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب تین صفحات پر مشتمل ہے۔احسن جمیل گجر نے اپنے لکھے گئے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ خالق داد لک کی رپورٹ مبہم اور غیر واضح ہے جبکہ انکوائری افسر نے حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور نیکٹا چیئرمین نے بھی ریکارڈ کیے گئے بیانات کو حقائق پر نہیں پرکھا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے پاس جو بات کی گئی تھی وہ نیک نیتی اور قواعد و ضوابط کے مطابق تھی اور میں نے کسی بھی انتظامی امور میں مداخلت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی سرکاری یا عوامی عہدہ نہیں ہے اور میں ایک عام شہری ہوں اس لیے میرے خلاف ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر انضباطی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ میں اپنی اس ملاقات پر پہلے ہی عدالت کے سامنے ندامت کا اظہار کر چکا ہوں۔احسن جمیل نے عدالت سے استدعا کی کہ میری حد تک ہونے والی عدالتی کارروائی کو ختم کیا جائے کیونکہ ملاقات میں مانیکا خاندان کے ساتھ پولیس رویے پر بات کی گئی تھی جو خاندانی دوست ہونے کی بنا پر کی گئی تاہم میں ملکی قوانین کا احترام کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…