جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امیروں سے پیسے چرا کر غریبوں میں بانٹنے والا بینک مینیجر گرفتار،چوری کی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی،حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی بھی مل گئی 

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

روم(این این آئی)اطالوی بینک منیجر کو امیروں سے پیسے چرا کر غریبوں میں بانٹنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیاتاہم انھوں نے کبھی بھی چوری کی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے وہ حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی مل گئی ۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق

فورنی ڈی سوپرا میں قائم ایک بینک منیجر جلبرٹو باشیرا نے 7 سال میں 10 لاکھ یورو چوری کیے تھے۔اس نے امیر افراد کے اکاؤنٹس سے تھوڑی تھوڑی رقم چرا کر ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی تھی جو کریڈٹ کارڈ بنوانے کے اہل نہیں تھے۔تاہم اس نے کبھی چرائی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے وہ حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی مل گئی۔رپورٹ میں اطالوی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بینکر کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ سیونگ کرنے والوں کو بچانے کے بجائے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا سوچا۔بینکر کو مذکورہ جرم پر 2 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم اطالوی قانون کے مطابق یہ اس کا پہلا جرم تھا اور اس کی سزا بھی مختصر تھی اس لیے اسے جیل میں نہیں ڈالا جائے گا۔بینکر کے وکیل روبرٹو میٹے کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو مذکورہ جرم کے نتیجے میں اپنی نوکری اور گھر سے ہاتھ دھونا پڑا۔ان کے مطابق جلبر ٹو باشیرا ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جو قرض حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ اطالوی بینک منیجر کو امیروں سے پیسے چرا کر غریبوں میں بانٹنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیاتاہم انھوں نے کبھی بھی چوری کی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے وہ حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی مل گئی ۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق فورنی ڈی سوپرا میں قائم ایک بینک منیجر جلبرٹو باشیرا نے 7 سال میں 10 لاکھ یورو چوری کیے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…