پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

امیروں سے پیسے چرا کر غریبوں میں بانٹنے والا بینک مینیجر گرفتار،چوری کی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی،حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی بھی مل گئی 

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

روم(این این آئی)اطالوی بینک منیجر کو امیروں سے پیسے چرا کر غریبوں میں بانٹنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیاتاہم انھوں نے کبھی بھی چوری کی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے وہ حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی مل گئی ۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق

فورنی ڈی سوپرا میں قائم ایک بینک منیجر جلبرٹو باشیرا نے 7 سال میں 10 لاکھ یورو چوری کیے تھے۔اس نے امیر افراد کے اکاؤنٹس سے تھوڑی تھوڑی رقم چرا کر ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی تھی جو کریڈٹ کارڈ بنوانے کے اہل نہیں تھے۔تاہم اس نے کبھی چرائی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے وہ حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی مل گئی۔رپورٹ میں اطالوی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بینکر کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ سیونگ کرنے والوں کو بچانے کے بجائے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا سوچا۔بینکر کو مذکورہ جرم پر 2 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم اطالوی قانون کے مطابق یہ اس کا پہلا جرم تھا اور اس کی سزا بھی مختصر تھی اس لیے اسے جیل میں نہیں ڈالا جائے گا۔بینکر کے وکیل روبرٹو میٹے کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو مذکورہ جرم کے نتیجے میں اپنی نوکری اور گھر سے ہاتھ دھونا پڑا۔ان کے مطابق جلبر ٹو باشیرا ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جو قرض حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ اطالوی بینک منیجر کو امیروں سے پیسے چرا کر غریبوں میں بانٹنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیاتاہم انھوں نے کبھی بھی چوری کی ہوئی رقم اپنی جیب میں نہیں ڈالی جس کی وجہ سے وہ حکام کے ساتھ پلی بارگین کے بعد جیل سے رہائی مل گئی ۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق فورنی ڈی سوپرا میں قائم ایک بینک منیجر جلبرٹو باشیرا نے 7 سال میں 10 لاکھ یورو چوری کیے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…