جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کی شامت ، ہیلمٹ کے استعمال کی پابندی کے بعد ایک اور بڑی پابندی عائدکردی گئی،چالان کرنے کا حکم 

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے ہیلمٹ اور سائیڈ شیشہ نہ لگانے والے پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کے چالان کرنے اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ قانون شکنی کرنے والے چند پولیس اہلکاروں کو گھر بھجوا کر دوسروں کے لئے مثال بنائیں۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبرقریشی نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عاملہ کے معاملات کو تکنیکی بنیادوں پر لٹکانے کا رواج ختم کیا جائے۔

جس پر وزارت داخلہ کے افسر نے کہا کہ تمام فریقین کی مشاورت کے لئے فوری اجلاس بلا لیتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ عدالتی احکامات پر دس یوم میں عمل درآمد کیا جائے۔اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو سیکرٹری داخلہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔جسٹس علی اکبر قریشی نے کہا کہ خوشی ہے کہ ہیلمٹ پہننے کے قانون پر عمل درآمد کے نتیجے میں سر پر چوٹ لگنے کی شرح میں پچاس فیصد کمی ہوئی، ہیلمٹ کا قانون موجود ہے عدالت نے صرف اس پر عمل درآمد کرایا۔انتظامیہ کے کرنے کے کام عدالت کو کرنا پڑ رہے ہیں۔ٹریفک قوانین کی پابندی ہمارے کلچر میں شامل ہی نہیں،موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھنے والے کے لئے ہیلمٹ پہننے پر پابندی کا جلد حکم دیں گیاور موٹر سائیکل سواروں کے لئے بیک مرر پر پابندی کا بھی حکم دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو خود چاہیے کہ ہیلمیٹ کے قانون پر پابندی کے معاملے کو سپورٹ کرے ،عدالتی حکم پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صحافیوں اور وکلا کے لئے آپ نے خود قانون کو ڈھیلا چھوڑا۔قانون پر پابندی کے حوالے سے کسی سے نرمی نہ برتی جائے۔  لاہور ہائیکورٹ نے ہیلمٹ اور سائیڈ شیشہ نہ لگانے والے پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کے چالان کرنے اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ قانون شکنی کرنے والے چند پولیس اہلکاروں کو گھر بھجوا کر دوسروں کے لئے مثال بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…