بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کی شامت ، ہیلمٹ کے استعمال کی پابندی کے بعد ایک اور بڑی پابندی عائدکردی گئی،چالان کرنے کا حکم 

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے ہیلمٹ اور سائیڈ شیشہ نہ لگانے والے پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کے چالان کرنے اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ قانون شکنی کرنے والے چند پولیس اہلکاروں کو گھر بھجوا کر دوسروں کے لئے مثال بنائیں۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبرقریشی نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ مفاد عاملہ کے معاملات کو تکنیکی بنیادوں پر لٹکانے کا رواج ختم کیا جائے۔

جس پر وزارت داخلہ کے افسر نے کہا کہ تمام فریقین کی مشاورت کے لئے فوری اجلاس بلا لیتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ عدالتی احکامات پر دس یوم میں عمل درآمد کیا جائے۔اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو سیکرٹری داخلہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔جسٹس علی اکبر قریشی نے کہا کہ خوشی ہے کہ ہیلمٹ پہننے کے قانون پر عمل درآمد کے نتیجے میں سر پر چوٹ لگنے کی شرح میں پچاس فیصد کمی ہوئی، ہیلمٹ کا قانون موجود ہے عدالت نے صرف اس پر عمل درآمد کرایا۔انتظامیہ کے کرنے کے کام عدالت کو کرنا پڑ رہے ہیں۔ٹریفک قوانین کی پابندی ہمارے کلچر میں شامل ہی نہیں،موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھنے والے کے لئے ہیلمٹ پہننے پر پابندی کا جلد حکم دیں گیاور موٹر سائیکل سواروں کے لئے بیک مرر پر پابندی کا بھی حکم دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو خود چاہیے کہ ہیلمیٹ کے قانون پر پابندی کے معاملے کو سپورٹ کرے ،عدالتی حکم پر ہر صورت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صحافیوں اور وکلا کے لئے آپ نے خود قانون کو ڈھیلا چھوڑا۔قانون پر پابندی کے حوالے سے کسی سے نرمی نہ برتی جائے۔  لاہور ہائیکورٹ نے ہیلمٹ اور سائیڈ شیشہ نہ لگانے والے پولیس اہلکاروں اور وارڈنز کے چالان کرنے اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ قانون شکنی کرنے والے چند پولیس اہلکاروں کو گھر بھجوا کر دوسروں کے لئے مثال بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…