جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

تم نے وردی پہنی ہے تو کیا۔۔ ہم سے جنگ مت چھیڑو ورنہ۔۔ مولانا فضل الرحمن محمود اچکزئی سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے فوج اور خفیہ اداروں کو کھلی دھمکیاں، کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری جماعت کو مت چھیڑو، جاسوسی ادارے سازشی ادارے بن چکے، تم نے وردی پہنی ہے تو کیا آسمان سے اتر ے ہو ، جیسے پاکستانی ہم ہیں ویسے ہی تم ہو، ہم سے جنگ نہ چھیڑی جائے، مولانا فضل الرحمن کی فوج کو دھمکیاں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جمعیت علمائےا سلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی جماعت کے ایک عمومی اجلاس

سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں اور شکایت کے طور پر کہتا ہوں ، میں ناراض ہوں، مجھے گلہ ہے، اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے ، یہ تمام تر فساد اور جماعتوں کے اندر غلط فہمیاں پیدا کرنا ، یہ جاسوسی ادارے نہیں رہے بلکہ اب یہ سازشی ادارے بن چکے ہیں۔ اگر وہ ہم سے دوستی چاہتے ہیں تو پھر اپنے روئیے میں تبدیلی لائو، یہ کوئی کارخارنے داروں اور جاگیرداروں کی جماعت نہیں کہ آپ ان کو جکڑ لیں اور پھر بلیک میل کرتے رہیں۔ ہم نہیں چاہتے تھے ایسی جنگ اور ایسی لڑائی ، ہمارے ساتھ جنگ نہ چھیڑی جائے، ہماری جماعت کو مت چھیڑا جائے ۔ تم بھی پاکستانی ہو اور ہم بھی پاکستانی ہیں، تم نے وردی پہن لی ہے تو کیا کوئی آسمانی مخلوق بن گئے ہو، اسی طرح پاکستانی ہو جیسے میں پاکستانی ہوں۔ گورنر ہائوس کو کھول دو، عوام کیلئے کھول دو جیسے اقدامات پر پھر میں نے کہا کہ وہ پھر ساتھ وہ بھی ہے اسے بھی کھولو۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ باقی کا تو سارا وزیراعظم ہائوس استعمال ہو رہا ہے، میٹنگز بھی اس میں ہو رہی ہیں اور کانفرنسز بھی اس میں ہو رہی ہیں، وہ جو دو کمرے ہیں وہ جو چھوٹا سا حصہ اور ایک لائونج استعمال نہیں ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ میں وزیراعظم ہائوس استعمال نہیں کر رہا، کیوں لوگوں سے جھوٹ بولتے ہو، ان دو کمروں کے بجائے آپ چار پانچ کمرو ں کی جگہ پر رہ رہے ہیں۔ اس سے بڑی جگہ پر رہ رہے ہیں، رقبے کے لحاظ سے بھی بڑی ہے اور مکانیت کے لحاظ سے بھی بڑی ہے۔ ہمیں تمہاری عیاشیوں کا کیا پتہ نہیں ، ہمیں تمہاری غلاظتوں کا کیا پتہ نہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…