جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

تم نے وردی پہنی ہے تو کیا۔۔ ہم سے جنگ مت چھیڑو ورنہ۔۔ مولانا فضل الرحمن محمود اچکزئی سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے فوج اور خفیہ اداروں کو کھلی دھمکیاں، کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری جماعت کو مت چھیڑو، جاسوسی ادارے سازشی ادارے بن چکے، تم نے وردی پہنی ہے تو کیا آسمان سے اتر ے ہو ، جیسے پاکستانی ہم ہیں ویسے ہی تم ہو، ہم سے جنگ نہ چھیڑی جائے، مولانا فضل الرحمن کی فوج کو دھمکیاں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جمعیت علمائےا سلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی جماعت کے ایک عمومی اجلاس

سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں اور شکایت کے طور پر کہتا ہوں ، میں ناراض ہوں، مجھے گلہ ہے، اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے ، یہ تمام تر فساد اور جماعتوں کے اندر غلط فہمیاں پیدا کرنا ، یہ جاسوسی ادارے نہیں رہے بلکہ اب یہ سازشی ادارے بن چکے ہیں۔ اگر وہ ہم سے دوستی چاہتے ہیں تو پھر اپنے روئیے میں تبدیلی لائو، یہ کوئی کارخارنے داروں اور جاگیرداروں کی جماعت نہیں کہ آپ ان کو جکڑ لیں اور پھر بلیک میل کرتے رہیں۔ ہم نہیں چاہتے تھے ایسی جنگ اور ایسی لڑائی ، ہمارے ساتھ جنگ نہ چھیڑی جائے، ہماری جماعت کو مت چھیڑا جائے ۔ تم بھی پاکستانی ہو اور ہم بھی پاکستانی ہیں، تم نے وردی پہن لی ہے تو کیا کوئی آسمانی مخلوق بن گئے ہو، اسی طرح پاکستانی ہو جیسے میں پاکستانی ہوں۔ گورنر ہائوس کو کھول دو، عوام کیلئے کھول دو جیسے اقدامات پر پھر میں نے کہا کہ وہ پھر ساتھ وہ بھی ہے اسے بھی کھولو۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ باقی کا تو سارا وزیراعظم ہائوس استعمال ہو رہا ہے، میٹنگز بھی اس میں ہو رہی ہیں اور کانفرنسز بھی اس میں ہو رہی ہیں، وہ جو دو کمرے ہیں وہ جو چھوٹا سا حصہ اور ایک لائونج استعمال نہیں ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ میں وزیراعظم ہائوس استعمال نہیں کر رہا، کیوں لوگوں سے جھوٹ بولتے ہو، ان دو کمروں کے بجائے آپ چار پانچ کمرو ں کی جگہ پر رہ رہے ہیں۔ اس سے بڑی جگہ پر رہ رہے ہیں، رقبے کے لحاظ سے بھی بڑی ہے اور مکانیت کے لحاظ سے بھی بڑی ہے۔ ہمیں تمہاری عیاشیوں کا کیا پتہ نہیں ، ہمیں تمہاری غلاظتوں کا کیا پتہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…