جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

گاڑی روکنے ، پرچی تھمانے کا جھنجھٹ ختم ،ای چالان کا آغاز ہوتے ہی کتنے ہزار چالان شہریوں کے گھر بھجوا دئیے گئے؟

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ماہ ستمبر کے دوران شہر میں ٹریفک صورتحال کے اعدادوشمار جاری کر دیئے۔ ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی کے حکم پر شہر میں الیکٹرانک چالان کا آغاز کیاگیا۔ دوسری جانب انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے حکم پر جعلی نمبر پلیٹ کی حامل لگژری گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

اب تک کُل 23ہزار113 مشکوک گاڑیوں کومانیٹر کر کے ان کا ریکارڈ چیک کیا گیا جن میں سے 254گاڑیوں کو خلاف قانون سرگرمیوں پر بلیک لسٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر اب تک 65لگژری گاڑیوں کو بند کیا گیا اور مالکان کے خلاف ایف آئی آردرج کروائی گئیں۔ الیکٹرانک چلاننگ کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں روزانہ کی بنیاد پر 5ہزار الیکٹرانک چالان گھروں میں بھجوائے جا رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے پاکستان پوسٹ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پہلے مرحلے کے دوران شہر میں سرخ بتی کی خلاف ورزی پر الیکٹرانک چالان بھجوائے جا رہے ہیں اوراگلے مرحلے میں دیگر خلاف ورزیوں پر بھی الیکٹرانک چالان جاری کیے جائیں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ سیف سٹیز اتھارٹی، موٹر وہیکل آرڈیننس 1965میں دیے گئے شرح جرمانہ کے مطابق چالان کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہ ستمبر کے دوران نمبر پلیٹ نہ ہونے کی بنا پر1244گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کے خلاف ایکشن لیاگیا۔ ترجمان نے بتایا کہ اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے شہر میں ٹریفک وارڈنز کی حاضری کو بھی چیک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام اور حد رفتارپرعملدرآمد کیلئے ویڈیو میسیجنگ سروس اسکرینز کے ذریعہ آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سیف سٹیز اتھارٹی کے آفیشل ٹویٹراکاؤنٹ PSCAsafecitiesاور فیس بک Punjabsafecitiesپر بھی ٹریفک اور الیکٹرانک چلاننگ کے حوالے سے آگاہی مہم جاری

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…