جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

آپ بڑی یورپ کی مثالیں دیتے ہیں،شکر کریں کہ خاور مانیکا بچ گیا اگر یہ یورپ کی پولیس ہوتی تو اس دن کیا ہوتا۔۔ رئوف کلاسرا نے وزیراعظم عمران خان کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر سے متعلق کیا باتیں بتائی ہیں؟

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی پی او رضوان گوندل اور آر پی او ساہیوال شارق صدیقی مانیکا فیملی کے پائوں پڑ چکے تھے، خاور مانیکا پرپولیس اہلکاروں کیساتھ ہتک آمیز رویہ رکھنے پر پرچے کٹنےچاہئیں، معروف صحافی رئوف کلاسرا ڈی پی او تبادلہ کیس سے متعلق مزید سنسنی خیز حقائق سامنے لے آئے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رئوف کلاسرا

نے انکشاف کیا ہے کہ ڈی پی او رضوان گوندل اور آر پی او ساہیوال شارق صدیقی مانیکا فیملی کے پائوں پڑ چکے تھےاور ان کا رویہ انتہائی معذرت خواہانہ تھا،رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ڈی پی او رضوان گوندل اور آر پی او شارق صدیقی نے ڈیرے پر جا کر معافی نہیں مانگی مگر مانیکا فیملی کے تقریباََ گھٹنے پکڑے ہوئے تھے، یہ لوگ منت ترلے کر رہے تھے ۔ خاور مانیکا جس طرح ناکے پر نہیں رکے اور پھرانہوں نے رضوان گوندل سے پولیس والوں کی بات کروائی اور ڈی پی او رضوان گوندل نے پولیس والوں کو کہا کہ ’شاہی خاندان ‘کو ٹچ نہیں کرنا ، گاڑی کی تلاشی نہیں لینی اور نہ ہی انکا اسلحہ چیک کرنا ہے۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا نے پولیس والوں کو گالیاں دی ہیںاور ان پولیس والوں نے اپنے بیان حلفی میں اس کا ذکر کیا ہے، ان کی ویڈیو بنی ہے۔ ان کو خاور مانیکا پر پرچے دینے چاہئے تھے۔ میں نے یہی بات عمران خان سے ملاقات میں بھی کہی کہ آپ ہمیں بڑی یورپ کی مثالیں دیتے ہیں، اگر یورپ کی پولیس ہوتی اور خاور مانیکا نے یہی کچھ پولیس کیساتھ کیا ہوتا ، انہوں نے کھڑے ہو کر وہیں پر کچھ نہ کچھ کر دینا تھا، آپ شکر کریں کہ یہ بچ گئے ہیں وہاں پر۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ڈی پی او رضوان گوندل اور آر پی او ساہیوال شارق صدیقی نے ان کے پائوں پکڑنے میں کوئی کسر نہیں رکھی ہوئی تھی، خاور مانیکا ان دونوں کیساتھ اپنے پرسنل غلاموں کی طرح برتائو کر رہے تھے، ان کو پیچھے سے بہت بڑی سپورٹ تھی تو ایسا ہو رہا تھا اور رضوان گوندل اور شارق صدیقی بھی ان کیساتھ بہت کمپرومائز کر رہے تھے او ریہ سب کچھ رپورٹس میں آچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…