منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عوام ہوشیار۔۔۔انڈوں کے نام پر کیا کھلایا جا رہا ہے گندے انڈوں کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) جعلی دودھ کی تیاری ہو، ناقص اشیاء خورونوش یا گندے اور خراب انڈوں کی ترسیل کے خلاف کارروائیاں فوڈ اتھارٹی نے پنجاب کے مختلف علاقوں سے پکڑے گئے لاکھوں کی تعداد میں انڈے تلف کر دیے، ان انڈوں کو لاہور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ڈمپنگ سائٹ لکھو ڈیر میں میڈیا کی موجودگی میں تلف کیا گیا۔گندے انڈے بیکریوں اور بسکٹوں کا پاؤڈر بنانے والی کمپنیوں کو سپلائی کیے جانے تھے۔ گندے انڈے مختلف ہیچریوں اور کولڈ سٹوروں سے اکٹھے کر کے فیضان کولڈ سٹور میں

رکھے گئے تھے۔ پکڑے جانے والے ملزمان کے مطابق گندے انڈوں کو بیکری آئیٹم کی تیاری کے لیے مختلف بیکریوں اورانڈوں سے خشک پاؤڈر تیار کر کے بڑی بسکٹ فیکٹریوں کو بھی فروخت کیا جانا تھا۔ گزشتہ روز ایک بڑی جعلی دودھ بنانے والی فیکٹری کو دیہی علاقے میں پکڑا گیاجو روزانہ کی بنیاد پر 40ہزار لیٹر سے زائد دودھ تیار کرتی تھی۔ فیکٹری سے 20ہزار لیٹر دودھ موقع پر پکڑ کر تلف کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ شیخو پورہ، لاہور اور اب ساہیوال میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ویجیلینس سیل کی

اطلاع پر کارروائیاں کر تے ہو ئے بھاری مقدار میں گندے انڈے بر آمد کر لیے گئے۔ ساہیوال میں11 لاکھ گندے انڈوں کی بڑی کھیپ پکڑنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی موقع پر پہنچ گئے۔ ویجیلینس سیل کی اطلاع پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ساہیوال اور چیچہ وطنی میں کارروائی کر تے ہو ئی11 لاکھ گندے انڈوں کی ایک اور بڑی کھیپ پکڑ لی۔ یاد رہے کہ ایک ہی ہفتے میں صوبہ کے مختلف شہروں میں اتنی بڑی مقدار میں گندے انڈوں کی مسلسل برآمدگی کی

تشویشناک صورت حال کے پیش نظر گندے انڈوں کی بڑے پیمانے پر برآمدگی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان چیچہ وطنی کے نواحی علاقے غازی آباد پہنچ گئے اورگیارہ لاکھ انڈہ سٹور کرنے والے کمالیہ کے رہائشی غلام شبیر نامی شخص سے پوچھ گچھ مکمل کر لی۔ مختلف علاقوں میں واقع ہیچریوں میں چکس ہیچنگ کے دوران خراب ہونے والوں انڈوں کو جدید نظام کے تحت خشک پاڈر کی شکل دے کر مختلف بڑی بسکٹس بنانے والی فیکڑیوں،

بیکریوں اورریسٹورنٹس کو فروخت کیا جاتا ہے۔ خراب انڈوں سے تیار کیے گئے پاڈر کا اشیا خورونوش میں استعمال مختلف بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں ایگ پاڈر تیار کرنے والی کمپنیا ں ہیچریوں سے گندے انڈے سستے داموں خرید کر مختلف کیمیکلز کے استعمال سے پاؤڈر تیار کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان نے دوران صوبہ بھر میں کی گئی کارروائیوں میں برآمد شدہ ملاوٹی اشیائے خورونوش کوتلف کر نے کے

لیے 5 بڑے شہروں میں جدید بھٹیاں لگانے کے منصوبے پر کام شروع کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشنز رافیعہ حیدر کوہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پیمکو کی طرز پر اشیاء کو جلا کر تلف کرنے والی جدید بھٹیوں بارے فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی ذمہ داری دے دی گئی۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹی اشیائے خورونوش کو قانون کے مطابق تلف کرنے کیلئے صوبہ کے پانچ بڑے شہروں میں جدید بھٹیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بارے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشنز

رافیعہ حیدر کو فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی ذمہ داری دی گئی ہے۔اجلاس کے دوران لاہور، ساہیوال، راولپنڈی، ملتان اور ڈی جی خان میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پیمکو کی طرز پر اشیاء کو جلا کر تلف کرنے والی جدید بھٹیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے اے ڈی جی آپریشنز کوبھٹیاں لگانے کے لیے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پیمکو کے ماڈل کا مطالعہ اور تکنیکی مشاورت کر نے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔کیپٹن (ر) محمد عثمان کا کہنا تھا کہ ملاوٹی اشیاء کو پکڑنا جس قدر اہم ہے اتنا ہی

ان کو ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر تلف کرنا ہے۔صوبہ بھر میں کی گئی کارروائیوں کے دوران برآمد شدہ ملاوٹی مال تلف کرنے کے لیے سالڈ ویسٹ کے مخصوص مقامات پر لانا پڑتا ہے۔ملاوٹی مال کو مختلف اضلاع سے تلفی کے لیے بڑے شہروں میں لانے پر بھی بھاری اخراجات اور افرادی قوت صرف ہوتی ہے۔مختلف شہروں میں بھٹیاں لگانے سے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ وقت اورسرمایہ کی بچت ہو گی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کے دوران برآمد ہونے والی ملاوٹی اشیائے خورونوش کو زیادہ دیر سٹور میں رکھنا نہ صرف کٹھن بلکہ تعفن کا بھی باعث بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…