ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مشاہد اللہ پی آئی اے میں لوڈر تھے، وہ کون سا کام تھا جس کے کرنے پر نواز شریف نے مشاہد اللہ کو سینیٹر بنایا؟ حیران کن انکشاف

datetime 3  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراطلاعات فواد چودہدری نے پی آئی اے میں سینیٹر مشاہد اللہ اوران کے خاندان کے افراد کی بھرتیوں اور ترقیوں کے معاملے پر کی گئی بات پر معذرت کر لی، واضح رہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ مشاہد اللہ نواز شریف کا سامان اٹھا اٹھا کر سینیٹر لگے۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل کو نقصان ہوا، پی آئی اے 356 ارب روپے کے خسارے میں ہے، سرکاری ادارے نقصان میں کیوں ہیں؟ مشاہد اللہ کے بھائی پی آئی میں ہیں، مشاہد اللہ کے بھائی کو

نیویارک میں پی آئی اے کا ڈائریکٹرمارکیٹنگ لگایا گیا، سینیٹ میں وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری اورمسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ ہوگئی ،اجلاس ختم ہونے کے بعد سینیٹر ہال میں سینیٹر مشاہد اللہ اور فواد چوہدری ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کیلئے لپکے لیکن ارکان نے بیچ بجاؤ کرا لیا ،ایوان میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیر اطلاعات کو ہدایت کی کہ جب تک وہ سینیٹر مشاہد اللہ سے متعلق کی گئی باتوں پر ان سے معذرت نہیں کریں گے تب تک ایوان میں انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،وزیراطلاعات نے پی آئی اے میں سینیٹر مشاہد اللہ اوران کے خاندان کے افراد کی بھرتیوں اور ترقیوں کے معاملے پر کی گئی بات پر معذرت کر لی ،وزیراطلاعات کی طرف سے معذرت کرنے کے باوجود پھر سینیٹر مشاہد اللہ کے خاندان سے متعلق بات کرنے پر چیئرمین نے وزیراطلاعات کو روکا لیکن وہ بات کرنے سے نہ رکے جس پرچیئرمین نے اجلاس ملتوی کردیا ۔بدھ کو سینیٹ میں وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے پی آئی اے میں سینیٹر مشاہد اللہ اوران کے خاندان کے افراد کی بھرتیوں اور ترقیوں کے معاملے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا ، میں صرف پی آئی اے کے خسارے سے متعلق بات کر رہاتھا ،وزیراطلاعات کی طرف سے معذرت کرنے پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اب وہ پی آئی اے میں سینیٹر مشاہد اللہ کے خاندان سے متعلق بات نہ کریں لیکن اس کے باوجود

وزیراطلاعات پی آئی اے میں سینیٹر مشاہد اللہ اوران کے خاندان کے افراد کی بھرتیوں سے متعلق تفصیلات بیان کرنا شروع ہوگئے جس پر چیئرمین انہیں باربارروکتے رہے لیکن وزیراطلاعات مسلسل بات کرتے رہے اور کہتے رہے کہ چیئر مین صا حب حقا ئق دیکھ لیں اور آ پ خود فیصلہ کر یں کہ میں نے کو ئی غلط با ت نہیں کی تھی جس پر معزرت بنتی ہے۔ وزیر اطلا عات کے خا موش نہ

ہو نے پر چیئرمین نے اجلاس جمعہ کی صبح 10بجے تک ملتوی کردیا۔ اجلاس ملتوی ہوتے ہی سینیٹر مشاہد اللہ اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ ہوگئی اور دونوں ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کیلئے آگے بڑھے لیکن سینیٹ ہال میں موجود ارکان نے بیچ بچاؤ کرایا تاہم اس کے باوجود وزیراطلاعات اور سینیٹر مشاہد اللہ ایک دوسرے پر جملے بازی کرتے رہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…