ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

یہ پاکستانی اب گاڑی اور زمین نہیں خرید سکیں گے تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ (فنانس ترمیمی بل2018)کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کی بل پر تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں،جبکہ سینیٹ کی جانب سے ترمیمی فنانس بل پر دی گئی 27میں سے صرف ایک سفارش کو منظور کیا گیا ۔ حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل میں نان فائلرز پر جائیداد اور گاڑی خریدنے پر دوبارہ پابندی لگا دی۔ اورسیز پاکستانیوں ، بیوہ کی وراثتی جائیداد کی منتقلی اور200سی سی سے کم کی

موٹر سائیکل خرید نے پر پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔ فنانس ترمیمی بل2018 منظور ہونے سے سگریٹ، گاڑیاں، مشروبات، میک اپ، ڈائپرز، موبائل، چاکلیٹ، ٹافیاں، جوسز، دودھ سمیت سینکڑوں اشیاء مہنگی ہو گئیں، کھانے پینے کی 1800لگژری اشیاء سمیت مجموعی طور پر 5900لگژری اشیاء پر ڈیوٹی میں ایک فیصد اضافہ کر دیا گیا، وزیراعظم، وزراء، گورنرز سے ٹیکس استثنیٰ واپس لے لیا گیا، ای او بی آئی کی کم از کم پنشن 10ہزار روپے مقرر کر دی گئی۔فنانس ترمیمی بل یکم جولائی 2018سے ملک میں نافذ العمل تصور ہو گا۔ضمنی بجٹ منظور ہونے کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا،جس میں ضمنی بجٹ پر سینیٹ کی سفارشات پر غور کیا گیا، جس کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے ضمنی مالیاتی ترمیمی بل 2018منظوری کے لیے پیش کیا، اسپیکر اسد قیصر نے وائس ووٹنگ کے ذریعے بل کی منظوری کا عمل شروع کیا تو پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی جانب سے شق 2کو چیلنج کیا گیا اور اس پر دوبارہ رائے شماری کا مطالبہ کیا گیا جسے اسپیکر نے منظور کرلیا۔قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی ترمیمی بل 2018کی شق 2پر رائے شماری کی گئی جس کی حمایت میں 158اور مخالفت میں 120ووٹ پڑے۔بل کی شق 4میں پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کی جانب سے دی گئی ترامیم کو رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا

جبکہ بل کی شق 6میں پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی کی جانب سے ارکان کیلئے صحت کارڈز اور انشورنس سے متعلق ترمیم بھی مسترد کر دی گئی ،وزیر خزانہ اسد عمر نے ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی صورتحال ٹھیک نہیں اس لیے مطالبہ نہیں مانا جاسکتا ،ہم نے وزیر اعظم اور گورنرز کی مراعات بھی ختم کر دی ہیں ۔بعد ازاں اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

ضمنی مالیاتی ترمیمی بل منظور ہونے سے سگریٹ، گاڑیاں، مشروبات، میک اپ، ڈائپرز، موبائل، چاکلیٹ، ٹافیاں، جوسز، دودھ سمیت سینکڑوں اشیاء مہنگی ہو گئیں، کھانے پینے کی 1800لگژری اشیاء سمیت مجموعی طور پر 5900لگژری اشیاء پر ڈیوٹی میں ایک فیصد اضافہ ہو گا، وزیراعظم، وزراء، گورنرز سے ٹیکس استثنیٰ واپس لے لیا گیا، کھاد پر سبسڈی دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…