اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہورہاہے؟ ورلڈ بینک کی رپورٹ ، حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں لوگوں کے گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1.7 فیصد ہے رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کے نئے مطالعے میں سامنے آئے ہیں یہ تخمینہ اصل نقصان کی ترجمانی نہیں کرتا

کیونکہ اس میں بجلی کی ترسیل میں قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے کا نقصان شامل نہیں ہے ورلڈ بینک کے نئے مطالعے سے حاصل ہونے والے نتیجے سے تجاویز اخذ کی گئی ہیں کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے بجلی کی ترسیل کو بڑھایا جائے تو پاکستان کو فائدے حاصل ہوں گیپاکستان یہ اہداف الیکٹرک گرڈ اور اس کے متبادل کو وسعت دینے سے حاصل کر سکتا ہے، اور اس کے لیے پاکستان میں ہوا، شمسی اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت ہیخیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دواران اپنے قصبوں اور دیہاتوں کو الیکٹرک گرڈ میں شامل کرکے اس حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہیواضح رہے کہ پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے توانائی کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس میں بجلی کی کم پیداوار سرِ فہرست ہے پاکستان میں حال ہی میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت توانائی کے منصوبے لگائے گئے ہیں جن میں سے کچھ فعال بھی ہوچکے ہیں چند روز قبل وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کے بلوں کی مکمل وصولی یقینی بنانے اور لائن لاسز میں کمی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی کردیا تھا۔  پاکستان میں لوگوں کے گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1.7 فیصد ہے رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کے نئے مطالعے میں سامنے آئے ہیں یہ تخمینہ اصل نقصان کی ترجمانی نہیں کرتا کیونکہ اس میں بجلی کی ترسیل میں قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے کا نقصان شامل نہیں ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…