ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہورہاہے؟ ورلڈ بینک کی رپورٹ ، حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں لوگوں کے گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1.7 فیصد ہے رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کے نئے مطالعے میں سامنے آئے ہیں یہ تخمینہ اصل نقصان کی ترجمانی نہیں کرتا

کیونکہ اس میں بجلی کی ترسیل میں قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے کا نقصان شامل نہیں ہے ورلڈ بینک کے نئے مطالعے سے حاصل ہونے والے نتیجے سے تجاویز اخذ کی گئی ہیں کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے بجلی کی ترسیل کو بڑھایا جائے تو پاکستان کو فائدے حاصل ہوں گیپاکستان یہ اہداف الیکٹرک گرڈ اور اس کے متبادل کو وسعت دینے سے حاصل کر سکتا ہے، اور اس کے لیے پاکستان میں ہوا، شمسی اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت ہیخیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دواران اپنے قصبوں اور دیہاتوں کو الیکٹرک گرڈ میں شامل کرکے اس حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہیواضح رہے کہ پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے توانائی کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس میں بجلی کی کم پیداوار سرِ فہرست ہے پاکستان میں حال ہی میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت توانائی کے منصوبے لگائے گئے ہیں جن میں سے کچھ فعال بھی ہوچکے ہیں چند روز قبل وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کے بلوں کی مکمل وصولی یقینی بنانے اور لائن لاسز میں کمی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی کردیا تھا۔  پاکستان میں لوگوں کے گھروں تک قابلِ اعتماد طریقے سے بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے سالانہ 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 1.7 فیصد ہے رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کے نئے مطالعے میں سامنے آئے ہیں یہ تخمینہ اصل نقصان کی ترجمانی نہیں کرتا کیونکہ اس میں بجلی کی ترسیل میں قابلِ اعتماد ذرائع کی کمی کی وجہ سے صحت اور تعلیم کے شعبے کا نقصان شامل نہیں ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…