بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سی پیک کے ٹھیکے چینی حکومت کے دبائو پر کن کمپنیوں کو دئیے گئے؟ وزیر مملکت مواصلات مراد سعید اور این ایچ اے حکام کا خوفناک انکشاف

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں این ایچ اے حکام نے سابق حکومت کے دور میں اقتصادی راہداری کے ٹھیکے چینی حکومت کے دبائو پر صرف تین کمپنیوں کو دینے کا انکشاف کیا ہے کمیٹی نے سی پیک منصوبوں کے تحت دئیے جانے والے ٹھیکوں کی تمام تر تفصیلات طلب کر لی ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے مواصلات مراد سعید نے کہاہے کہ سی پیک مشترکہ

کمیٹی کے دوران مذید کمپنیوں کو بھی ٹھیکوں میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت ادارہ برائے پارلیمانی خدمات کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ جو معاہدے کیے ہیں ان پر موثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر درست منصوبہ بندی کی جاتی تو خنجراب سے گوادر تک سونے کی سٹرک بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان سکھر موٹر وے پر بے شمار تحفظات ہیں۔۔چین کی کمپنیوں کو کن مقاصد کیلئے نوازا گیا ہے۔اس حوالے سے میرے مختلف سوالات ہیں کمیٹی کو فراہم کیے جائیں۔جس پر چیئرمین این ایچ اے نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے ٹھیکے چینی حکومت کے دبائو پر صرف تین کمپنیوں کو دئیے گئے ہیں اگر اس موقع پر زیادہ کمپنیاں شامل ہوتی تو منصوبوں پر کم لاگت آتی انہوں نے کہاکہ جوائنٹ وینچر منصوبہ جات میں فرموں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور پاکستان کی کمپنیوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گاتاکہ معاملات میں شفافیت رہے اور ملک کو بھی فائدہ ہو سکے اور اس حوالے سے چین کے ساتھ معاملات جلد طے پا جائیں گے۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی ، میر محمد یوسف بادینی ، ڈاکٹر اشوک کمار ، آغا شہازیب درانی ، عثمان خان کاکڑ، لیاقت خان ترکئی ، فدا محمد، محمد طلحہ محمود ، مولا بخش چانڈیو اور نعمان وزیر خٹک کے علاوہ وزیر مواصلات مراد سعید ، چیئرمین این ایچ اے ، آئی جی موٹر وے پولیس کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…