بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہیلمٹ نہ پہننے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع ،پہلے روز 5 ہزار 315 موٹرسائیکل سواردھرلئے گئے،ہیلمٹ کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ،انڈین ہیلمٹ بھی مارکیٹ میں آگئے

datetime 24  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر شہر کی مصروف ترین شاہراء مال روڈ پر ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا اور پہلے روز 5 ہزار 315 موٹرسائیکل سواروں کے چالان کیے گئے ،ہیلمٹ کے استعمال کے حوالے سے شہر بھر میں آگاہی بینرز بھی آویزں کر دیئے گئے ،

شہریوں نے ہیلمٹ کی خریداری کیلئے مارکیٹوں کا رخ کر لیا ،دکانداروں نے قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ترجمان سٹی ٹریفک پولیس کے مطابق کریک ڈاؤن کے پہلے روز ٹریفک سیکٹر ڈیوٹی کے علاوہ 42 اضافی وارڈنز تعینات کئے گئے۔مال روڈ پر 1276موٹر سائیکل سواروں کے چالان کئے گئے، انارکلی سرکل میں 800 موٹر سائیکل سواروں کے چالان کئے گئے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ہیلمٹ کے استعمال کے حوالے سے شہر بھر میں آگاہی بینرز آویزں کئے گئے ہیں ۔ دوسری جانب مال روڈ پر کریک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد شہریوں نے ہیلمٹ کی خریداری شروع کر دی ہے اور مارکیٹوں میں انتہائی رش دیکھنے میں آرہا ہے ۔ دکانداروں نے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں بلا جواز کئی گناہ اضافہ کردیا ہے ۔ عام دنوں میں 600سے 700میں فروخت ہونے والے ہیلمٹ کی قیمت 1200 سے 1500روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1000سے 1500روپے والے ہیلمٹ کی 2000ہزار روپے تک قیمت مانگی جارہی ہے ۔ مارکیٹ میں دکاندار ’’انڈین ہیلمٹ ‘‘کے نام سے بھی فروخت کر رہے ہیں جس کی مضبوطی کی وجہ سے قیمت 2500روپے تک طلب کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب شہری قیمتیں بڑھنے کے بعد محفوظ ہیلمٹ کی بجائے صرف جرمانے سے بچنے کے لئے انتہائی ناقص میٹریل سے بنے ہوئے ہیلمٹ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں جس کی قیمت 500 سے 700روپے تک ہے ۔شہریوں نے لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیلمٹ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافے پر از خود نوٹس لیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…