بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پشاور ریپڈ بس منصوبہ آخری مراحل میں داخل

datetime 23  ستمبر‬‮  2018 |

پشاور(آن لائن)پشاور ریپڈ بس منصوبے کے تین زیر زمین سٹیشنوں پر پانی نکالنے ، ان کی تزئین و آرائش کاکام شروع کردیا گیا ہے جبکہ حیات آباد ٹیچنگ ہسپتال ، چمکنی اور حاجی کیمپ میں سٹاپ کی تعمیر کاکام مکمل کر لیا گیا ہے خود کار سسٹم ، مسافروں کو بارش سے بچنے کے لئے چھت ، لائن میں کھڑے کرنے کے لئے راستے تعمیر کردیئے گئے ہیں

ترجمان کے مطابق منصوبے پر صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں بین الاقوامی معیار کے مطابق کنسٹرکشن کمپنیوں نے کام تیزی کے ساتھ جاری رکھا ہے تینوں کنسٹرکشن کمپنیوں کا شمار بین الاقوامی کمپنیوں میں سے ہوتا ہے پشاور ریپڈ بس منصوبے کے چمکنی سے فردوس تک پہلا مرحلہ رواں سال کے دسمبر میں مکمل ہو جائے گا۔جس کے بعد فیز ٹو او رفیز تھری کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ فردوس میں پل پر برج رکھنے کے بعد سڑک کی تعمیر کاکام بھی شروع کردیا ہے ریچ ٹو پر ڈبگری سے ریلوے سٹیشن تک چالیس برج رکھ دیئے گئے ہیں امن چوک سے صدر چوک تک برج رکھنے کامرحلہ مکمل ہونے کے بعد سڑک کی تعمیر بھی پل کے اوپر بین الاقوامی طریقہ سے شروع کردی گئی ہے ملازمین کو حفاظتی سامان کی فراہمی بھی کی گئی ہے جبکہ ملازمین کو کھانے پینے کی اشیاء اعلیٰ معیار کے مطابق کی جارہی ہیں پشاور ریپڈ بس منصوبے کے تین زیر زمین سٹیشنوں پر پانی نکالنے ، ان کی تزئین و آرائش کاکام شروع کردیا گیا ہے جبکہ حیات آباد ٹیچنگ ہسپتال ، چمکنی اور حاجی کیمپ میں سٹاپ کی تعمیر کاکام مکمل کر لیا گیا ہے خود کار سسٹم ، مسافروں کو بارش سے بچنے کے لئے چھت ، لائن میں کھڑے کرنے کے لئے راستے تعمیر کردیئے گئے ہیں ترجمان کے مطابق منصوبے پر صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں بین الاقوامی معیار کے مطابق کنسٹرکشن کمپنیوں نے کام تیزی کے ساتھ جاری رکھا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…