بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مسلسل تین سال پروفیسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے بعد طالبہ کے صبر کا پیمانہ لبریز، سب کچھ سامنے لے آئی، شرمناک انکشافات

datetime 22  ستمبر‬‮  2018 |

فیصل آباد (نیوز ڈیسک) فیصل آباد کے میڈیکل کالج کے پروفیسر کی جانب سے مسلسل تین سال ہراساں کی جانے کے بعد لڑکی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس لڑکی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پروفیسر کے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کی طالبہ مہوش امین نے پروفیسر کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا کہ  مجھے گزشتہ تین سالوں سے میرے ٹیچر اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم راجہ فرانزک میڈیسن پی ایم سی فیصل آباد مبینہ طور پر ہراساں کر رہے ہیں اور میرے پاس اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ طالبہ نے کہا کہ انہوں نے اس مقدم پیشے کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، انہوں نے غیر اخلاقی اور شرمناک حرکات کرکے ڈاکٹرز کمیونٹی کو شرمندہ کر دیا ہے اور انہوں نے استاد اور شاگرد کے تعلق کو بھی ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ طلبہ مہوش امین نے کالج انتظامیہ اور کمیٹی سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف جلد از جلد کارروائی عمل میں لائی جائے اور کسی دباؤ کے بغیر شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ان کے اس رویے کا شکار ہونے والی دیگر لڑکیوں کو بچایا جا سکے، اس موقع پر طالبہ نے کہا کہ آپ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں، اگر میں جھوتی ثابت ہوں تو مجھے سزا دیں۔ طالبہ نے کہا کہ آپ ان کا واٹس ایپ چیک کریں جبکہ میرے پاس بھی ان کے پیغامات موجود ہیں، آپ اگر چاہیں گے تو میں وہ آپ کے سامنے پیش کر دوں گی۔ اس موقع پر طالبہ مہوش امین نے کہا کہ اگر کمیٹی کی طرف سے شفاف کاررائی نہ کی گئی تو وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ایف آئی اے کو درخواست دیں گی اس کے علاوہ پاکستان کے تمام میڈیا چینلز پر پروفیسر کی اصلیت کھول کر رکھ دوں گی اور اپنی آخری سانس تک ان کے خلاف جنگ لڑوں گی۔

طالبہ نے اپنی اس پوسٹ کے بعد ایک اور پیغام میں کالج کی ان لڑکیوں سے جن کو پروفیسر نے ہراساں کیا ہے اپنی کہانیاں مسیج کرنے کے لیے کہا۔ یہ معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ طالبہ مہوش حیات نے چند سکرین شاٹ پوسٹ کیے جو انہیں ڈاکٹر خرم اور ان کی ٹیم کی طرف سے پیغام موصول ہوئے تھے، جس پر طالبہ مہوش امین نے کہا کہ آپ مجھے ڈرانے اور کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کو آپ مجھے اس سے مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…