بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ملزمان کی سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا ،تفصیلات جاری

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دو ملزمان کی سزاؤں پر عبوری عمل درآمد روک دیا۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے تک ملزمان کو تحتہ دار پر نہ لٹکایا جائے،عدالت نے وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے۔فوجی عدالت نے دونوں ملزمان کو پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔

ہائیکورٹ نے پھانسی کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دی تھیں ۔ملزم طاہر علی کے والد سید نبی نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ملزم طاہر علی پر 2009 میں فوج کے ایک صوبیدار اور ایک حوالدار کے قتل کا الزام ہے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ملزم طاہر علی کے وکیل مسعود الرحمان نے عدالت کو بتایا کہ ملزم طاہر علی نے 2010 میں گرفتاری دیدی تھی،ملٹری کورٹ نے 20 جولائی 2017 کو ملزم کو سزائے موت سنائی تھی،پشاور ہائیکورٹ نے ملزم کی سزائے موت کی سزا کو برقرار رکھا۔ملزم حبیب الرحمان کو بھی دہشت گردی کا الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔عدالت نے سزائے موت پانے والے دو ملزمان کی سزاؤں پر عبوری عمل درآمد ر روکتے ہوئے مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے تک ملزمان کو تحتہ دار پر نہ لٹکانے احکامات جاری کئے ہیں ۔کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دو ملزمان کی سزاؤں پر عبوری عمل درآمد روک دیا۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے تک ملزمان کو تحتہ دار پر نہ لٹکایا جائے،عدالت نے وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے۔فوجی عدالت نے دونوں ملزمان کو پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔ہائیکورٹ نے پھانسی کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دی تھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…