ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا کو انصاف دلوانا عمران خان کی ذمہ داری ہے ،طاہر القادری پھر میدان میں ،دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی سزا کے بارے میں جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کے قانونی کردار سے متعلق جو معاملات اٹھائے نیب انکا جواب دے۔نیب کی انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن میں جو کوتاہی ہوئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟نیب کے چیئرمین ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ وہ گزشتہ روز سنیئر رہنماؤں کے اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ نظام،افسران،بیوروکریسی سب کچھ وہی ہے نتیجہ مختلف کیسے آ سکتا ہے؟ ملک میں 70 سال سے جو کھیل کھیلا جا رہا تھا وہ اب بھی کھیلا جا رہا ہے،جب تک نظام نہیں بدلے گا قانون سے کھلواڑ ہوتا رہے گا اور انصاف ہچکولے کھاتا رہے گا۔ دریں اثناء سربراہ عوامی تحریک نے گزشتہ روز علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ماڈل ٹاؤن میں 14 معصوم شہریوں کی لاشیں گرائی گئیں ،قوم کی بیٹیوں کو گھسیٹا گیا ،منہ میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا، بے گناہوں کا خون بے دردی سے بہایا گیا، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوم چار سال سے انصاف کے حصول کے لیے دھکے کھارہے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چار سال 2014 ء کے دھرنے سے لے کر آخری دن تک ہمیشہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے انصاف کیلئے آواز بلند کی، اب وہ برسراقتدار ہیں، عمران خان اور پی ٹی آئی کی گورنمنٹ کے لیے پہلا ٹیسٹ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث ان 116 پولیس افسران کی برطرفی ہے جن کو عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ خود عمران خان چار سال ہمارے ساتھ مل کر کرتے رہے ہیں، ماڈل ٹاؤن سانحہ میں ملوث پولیس افسران آج بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ ایک بھی شخص معطل ہوا نہ او ایس ڈی بنایا گیا اور نہ جیل گیا ہے،موجودہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، میں امید کرتا ہوں کہ عمران خان اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔

وہ وطن پہنچنے پر لاہور ایئرپورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک، تحریک منہاج القرآن کے مرکزی، صوبائی رہنما اور کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود تھی، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ اور ملوث افسران جیلوں میں بھیجیں تاکہ مظلوموں کے لیے انصاف کا راستہ ہموار ہو۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران دھمکیاں دے رہے ہیں،

عدالت میں عوامی تحریک کے گواہوں کو مارا پیٹا بھی جارہا ہے ،ان دھمکیوں اور غنڈہ گردی کے نتیجے میں ہمارے لیڈنگ وکلاء نے خوفزدہ ہو کر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وکالت سے انکار کر دیا ہے۔ مجھے فوری طور پر وطن اس لیے آنا پڑا کہ وکلاء سے رابطہ کر کے ایک لیڈنگ وکیل ہائر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی دلائل مکمل ہو چکے ہیں،اڑھائی مہینے سے فیصلہ محفوظ ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ فیصلہ سنایا جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے رکوانے میں تحریک منہاج القرآن کا اہم رول ہے۔

تحریک منہاج القرآن نے جرمنی ،ہالینڈ و دیگر ممالک کے ممبر پارلیمنٹ جو میرے ساتھ مختلف مختلف کانفرنسز میں بھی شریک تھے ان سے میمورنڈم سائن کروا کے ہالینڈ کے وزیر اعظم کو دیا اس کاوش کے نتیجے میں ہالینڈ پرائم منسٹر نے کمیٹی بنائی اور یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی جو سفارش کرے گی اسکی روشنی میں فیصلہ ہوگا،کمیٹی کی سفارش پر گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا فیصلہ واپس لیا گیا جس میں تحریک منہاج القرآن کا کلیدی کردار ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کیلئے تعزیت کر چکا ہوں انکی بخشش اور مغفرت کیلئے دعا گو ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…