منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

حکومت دو مقبول ترین مگرخطرناک گیمز پر پابندی لگانے کا فیصلہ،احکامات جاری

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے بلیو وہیل اور مومو گیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسی گیمز کی گنجائش نہیں ہے اس طرح کی گیمز بنانا اور پھیلانا سائبر کرائم کے زمرے میں آئے گا تفصیلات کے مطابق حکومت نے بلیو وہیل اور مومو گیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسی گیمز کی گنجائش نہیں ہے۔

اس قسم کی گیمز بنانا اور پھیلانا سائبر کرائم کے زمرے میں آئے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنو نیر ووفا قی وزیر برائے انفار میشن ٹیکنالوجی و مواصلات ڈاکٹر خا لد مقبول صدیقی نے گذشتہ روزکراچی میں آئی ٹی ٹیکنالوجی اور سافٹ ویرڈویلپرز کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بلیو ویل اور مومو جیسے سافٹویرز (سوشل گیمز)کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس طرح کے سوفٹ ویرز (سوشل گیمز)نوجوانوں کی تباہی اور دنیا میں موت کا ایک بڑا سبب بنتے جارہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ اب یہ ہمارے معاشرے میں بھی نشے کی طرح پھیل رہا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا کہ بہت جلد حکومت پاکستان ایسے تمام سوفٹ ویرز (سوشل گیمز) کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر رہی ہے جبکہ اب ہم ایک قانونی سازی کے زریعے اس طرز کے تمام پروگرامز کا بنانا، اس کا پھیلانا یا اسکا استعمال کرنا سائبر کرائم کے ضمرے میں لائیں گے اور اس کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائینگی۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خصوصا والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں،کیونکہ یہ سوشل گیمزواٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے آپ کے بچوں کو ان کے موبائل فون پر بھیجے جارہے ہیں اور جو بچہ یا بڑا ایک بار اس کے شکنجے میں پھنس جائے اسکا نکلنا مشکل ہوجاتا ہے ،ذرائع ابلاغ بھی ان سافٹویرز (سوشل گیمز) کی تباہ کاریوں سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افرادبھی اس سلسلے میں ایک اہم کردار اداکر سکتے ہیں اور وہ اپنی اگاہی مہم کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں اور بچوں کو ایسے تمام سافٹویرز (سوشل گیمز)سے دور کرکے احتماعی طور پر ہزاروں زندگیاں بچانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…