بدھ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2024 

یہ سب کچھ تمہاری ماں کرا رہی ہے۔۔پولیس کی جانب سے بار بار روکے جانے پر خاتون اول بشریٰ عمران کے سابق شوہر خاور مانیکا بچوں کو کیا کچھ کہتے رہے، معاملہ کہاں سے بگڑا؟عمران خان پہلی بار معاملے پر بول پڑے

1  ستمبر‬‮  2018

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے گزشتہ روز سینئر صحافیوں کیساتھ عمران خان سے ملاقات کی ہے ۔ ملاقات سے متعلق نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان پہلے خندہ پیشانی سے سوالات کا جواب نہیں دیتے تھے، اب ایسا نہیں تھا۔ حامد میر نے بتایا کہ عمران خا ن نے بتایا کہ عثمان بزدار کو جس روز نامزد کیا گیا اس وقت تک

جہانگیر ترین کو ان کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا۔ انہیں بہت دھچکا لگا کہ یہ کون بندہ آگیا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے حوالے سے جو واقعہ ہوا ، اس حوالے سے عمران خان کو پتہ ہے لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکتے، 5اگست سے 23اگست تک مانیکا فیملی کو بار بار روکا گیا جس پر خاور فرید مانیکا نے اپنے بچوں سے کہا کہ یہ سب آپ کی والدہ کرارہی ہے، اس کے بعد وزیراعلیٰ کو پیغام بھجوایا گیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ، عمران خان نے واضح کیا کہ بشریٰ بی بی اس معاملے میں کہیں بھی نہیں۔ ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اب خارجہ پالیسی دفتر خارجہ میں ہی بنے گی، عمران خان کی کابینہ ابھی مکمل نہیں، دوسرے فیز میں وہ اچھے لوگ لے کر آئیں گے جو آپ کو پسند آئیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جمعہ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) پاک پتن رضوان گوندل کے تبادلے کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کی،اس دوران انسپکٹر جنرلپنجاب پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام و دیگر افسران پیش ہوئے خاور مانیکا اور احسن جمیل گجر پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ 3 بجے تک ان کی حاضری یقینی بنائیں۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا اور احسن جمیل گجر کہاں ہیں؟ یہ کیا قصہ ہے؟ 5 دن سے پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار

کیا کہ رات ایک بجے تبادلہ کیا گیا ٗکیا صبح نہیں ہونی تھی ٗڈیرے پر بلا کر معافی مانگے کا کیوں کہا گیا؟انہوں نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ یا اس کے پاس بیٹھے شخص کے کہنے پر تبادلہ ہوا تو یہ درست نہیں ہے، ایک بات بار بار کہہ رہا ہوں کہ پولیس کو آزاد اور بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم سیاسی مداخلت اور اثرو رسوخ برداشت نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح دباؤ کے تحت تبادلہ ہوتا ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران آئی جی کلیم امام نے بیان دیا کہ مجھ پر ڈی پی او کے تبادلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں، محکمانہ طور پر ان کا تبادلہ کیا گیا، اسپیشل برانچ اور دیگر ذرائع سے پتہ چلا تھا کہ رضوان گوندل درست معلومات نہیں دے رہے۔سماعت کے دوران آئی جی پنجاب نے اونچی آواز میں کہا کہ تبادلہ سزا نہیں ہوتا

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں اونچی آواز میں بات نہیں کریں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نےوزیر اعلیٰ سے ڈی پی او کو ملنے سے روکا؟ ایک خاتون پیدل چل رہی تھی ٗپولیس نے پوچھا تو اس میں کیا غلط ہے؟ اس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا گیا تھا۔سماعت کے دوران ڈی پی او رضوان گوندل نے بیان دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او حیدر

کی کال آئی کہ میں اور آر پی او ملیں، میں نے 23 اور 24 اگست والے واقعے کا قائم مقام آر پی او کو بتایا۔انہوں نے بتایا کہ پورا واقعہ آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پیغام بھیجا، واقعے والے دن 4 بجے فون آیا کہ آپ رات 10 بجے تکوزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچ جائیں۔رضوان گوندل نے بتایا کہ رات 10 بجے وہاں پہنچ گئے تھے، جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے احسن جمیل کا تعارف بطور بھائی کرایا۔

انہوں نے کہا کہ احسن جمیل نے پوچھا مانیکا فیملی کا بتائیں، لگتا ہے ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔اپنے بیان میں رضوان گوندل کا کہنا تھا کہ مجھے بیرون ملک سے بھی پیغامات بھیجے گئے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیغام بھیجنے والے کون تھے؟اس پر رضوان گوندل نے بتایا کہ پیغام بھیجنے والوں میں انٹر سروسز انٹیلی جنس کے کرنل طارق تھے، انہوں نے پیغام دیا کہ آپ ڈیرے پر چلے جائیں۔

رضوان گوندل نے کہا کہ ایک فون بیرون ملک میں موجود میرے سینئر عظیم ارشد نے بھی کیا جبکہ میں ابراہیم مانیکا کو کال کرتا رہا کہ آپ میرے دفتر نہیں آسکتے تو گھر آجائیں۔انہوں نے کہا کہ میں حلفاً یہ کہتا ہوں کہ مجھے کسی پولیس اہلکار نے نہیں بتایا کہ لڑکی سے بدتمیزی ہوئی ہے۔عدالت میں جاری سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی ابوبکر نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ خاتون سے

بدتمیزی کا پہلا واقعہ 5 اگست کو پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ 6 اگست سے 23 اگست تک اس معاملے پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی نے رابطہ کیا، میری تحقیقات یہ ہیں کہ ڈی پی او کو اس واقعے کی تحقیقات کرنی چاہیے تھی۔ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ ہم عوام کے خادم ہیں، ہماری کوئی انا نہیں ہوتی،24 اگست کو 18 دن بعد بتایا گیا کہ ایک فون بیرون ملک سے آیا اور دوسرا فون آئی ایس آئی

کے کرنل نے کیا۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کا موقف ہے کہ 5 اگست کے واقعے کی ڈی پی او کو تحقیقات کرنی چاہیے تھی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پولیس خدمت کے لیے ہے لیکن آج کی پولیس تفتیش کے لیے شکایت کنندہ کو کہتی ہے کہ گاڑی لے کر آؤ، ہم نے نظام تبدیل کرنا ہے، ریاست کی رٹ اورعزت برقرار رہنی چاہیے۔عدالت میں سماعت کے

دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پورے واقعے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا کیا کام تھا، یہ وزیر اعلیٰ کا یار کہاں سے آگیا؟ کیا احسن جمیل گجر کوئی بڑا آدمی ہے؟اس موقع پر عدالت نے ہدایت دی کہ پتہ کرکے بتایا جائے کہ خاور مانیکا اور احسن گجر گتنی دیر میں آئیں گے۔

موضوعات:



کالم



ٹینگ ٹانگ


مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…

ایک نئی طرز کا فراڈ

عرفان صاحب میرے پرانے دوست ہیں‘ یہ کراچی میں…

فرح گوگی بھی لے لیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…

ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…