منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی،پیپلز پارٹی کے یوٹرن کے بعد مشترکہ صدارتی امیدار لانے میں ناکامی پر اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی پر پھٹ پڑیں،سنگین الزامات عائد

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

اسلام آبا (این این آئی)صدارتی انتخاب کیلئے پیپلزپارٹی کے یوٹرن کے بعد مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکامی پر دیگر اپوزیشن جماعتیں پی پی پر پھٹ پڑیں۔تفصیلات کے مطابق گرینڈ اپوزیشن الائنس نے صدارتی انتخاب کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا اعلان کیا تھا تاہم پیپلزپارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) نے شدید اعتراض کیا اور امیدوار کی تبدیلی کا مطالبہ کیا لیکن آصف زرداری نے امیدوار کی تبدیلی سے انکار کردیا۔

پیپلزپارٹی کی طرف سے اعتزاز احسن کے نام پر ڈٹے رہنے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکامی پر پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔میر حاصل بزنجو نے کہا کہ مضبوط اپوزیشن کے لیے ہم سب مل بیٹھے تھے، پہلا مرحلہ آیا تو فیصلہ ہوا کہ وزیراعظم کا امیدوار(ن) لیگ کا ہوگا، فیصلہ ہوا تھا کہ وزیراعظم کا امیدوار (ن) لیگ، اسپیکر پیپلزپارٹی اور ڈپٹی ایم ایم ایسے ہوگا۔انہونے کہاکہ وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کا نام بھی پیپلز پارٹی نے دیا تھا شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر چیئرمین سینیٹ لینا چاہتے ہیں تو تیار ہیں کیونکہ ہمارا مقصد الائنس رکھنا ہے لیکن پیپلزپارٹی نے جس طرح بیک آؤٹ کیا اس سے اتحاد کو دھچکا لگا۔انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی کوشش کریں گے کہ پیپلزپارٹی کی منتیں کریں، مولانا فضل الرحمان سے کہیں گے کہ وہ آصف زرداری کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ مشترکہ صدارتی امیدوار کے لیے پیپلزپارٹی سے معاملات طے نہیں ہوپائے، رات گئے تک بھی مشترکا امیدوار کے لیے کوشش کی، امید کرتا ہوں پیپلز پارٹی اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے سے بچائیگی،

پیپلز پارٹی نے پہلے کہا تھا تین امیدواروں کا پینل دیں گے، انہوں نے پینل کا نام نہیں دیا بلکہ اعتراز احسن پرہی اڑے رہے۔ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ مسلسل رابطوں کے باوجود پیپلزپارٹی اب تک اس اتحاد کا حصہ نہیں بنی، پیپلزپارٹی کے پاس جائیں گے اور درخواست کریں گے کہ وہ اپوزیشن کی تقسیم کا سبب نہ بنے، ہم جیتنے کی پوزیشن میں ہیں بشرط پیپلزپارٹی ساتھ دے۔عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے صدارتی امیدوار کے لیے اعتزاز احسن کی بجائے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کا اعلان کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…