منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

’’مقامی افراد نے ’’مری بائیکاٹ مہم ‘‘سے کچھ سبق حاصل نہ کیا‘‘ مری میں سیاحوں پر تشدد کا ایک اور دلخراش واقعہ، مقامی نوجوانوں کا گروپ خاتون اور مرد سیاح کو پولیس کی موجودگی میںتشدد کا نشانہ بناتا رہا، ویڈیو بھی سامنے آگئی

datetime 26  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مری کے مقامی افراد نے مری بائیکاٹ مہم سے کچھ سبق حاصل نہ کیا، مقامی افراد کا ایک بار پھر سیاحوں پر تشدد، خاتون اور اس کے ساتھ آئے رشتہ دار کو پولیس کی موجودگی میں زدوکوب کرتے رہے، خاتون چیختی چلاتی رہی، ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔تفصیلات کے مطابق مری کے مقامی افراد نے مری بائیکاٹ مہم سے کچھ سبق حاصل نہیں کیا اور ایک بار

پھر مری کے مقامی افراد کی جانب سے سیاحوں پر تشدد کا تازہ واقعہ سامنے آیا ہے جس کی ویڈیو بھی الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آگئی ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مری کے مقامی افراد نے پولیس کی موجودگی میں خاتون اور اس کے ساتھ آئے رشتہ دار کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی نوجوانوں پر مشتمل گروپ پولیس کی موجودگی میں خاتون اور اس کے ساتھ آئے رشتہ دار پر تشدد کر رہے ہیں۔ اس دوران پولیس اہلکار ان افراد کو روکنے کی کوشش کرتے رہے تاہم مقامی نوجوانوں کا یہ گروپ لوگوں کے اور پولیس کے روکنے کے باوجود وقفے وقفے سے خاتون اور اس کے رشتہ دار پر حملہ آور ہوتا اور گھونسے اور مکے مارتا رہا۔ خوفزدہ خاتون مسلسل چیختی رہی ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مری میں مقامی افراد کی جانب سے سیاحوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آئے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر چند نوجوانوں نے ’’مری بائیکاٹ مہم ‘‘کا آغاز کیا تھا جس کے شدید اثرات مری کی معیشت اور وہاں کی ہوٹل انڈسٹری کو برداشت کرنے پڑے تھے جب ملک بھر کے لوگوں نے اس مہم میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے سیاحت اور سیروتفریح کیلئے مری جانے کا بائیکاٹ کر کے گلیات اور کاغان ، ناران کا رخ کر لیا تھا جس کے باعث مری کے بازار اور ہوٹل ویران ہو گئے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مری ہوٹل ایسوسی ایشن نےمشترکہ اجلاس کے بعد ایک بار پھر سیاحوں کو مری کی جانب راغب کرنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے تھے اور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ مری بائیکاٹ  مہم چھوڑ کر سیاحت کیلئے مری آئیں انہیں ہر طرح کی سہولیات دی جائیں گی۔ مری ہوٹل ایسوسی ایشن کی اس مہم میں ٹریفک پولیس نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا تاہم اب دوبارہ ماضی کی طرح کا واقعہ پیش آنے کے بعد سیاحوں کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…