اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ نے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس میں کمی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں تیار اور فروخت ہونے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس بہت زیادہ ہے۔ یہاں تیار اور فروخت ہونے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس کی شرح 33 فیصد کے قریب ہے۔
اس حوالے سے آٹو کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی کل قیمت کا 33 فیصد مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس ٹیکس پر ایک شہری نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور اپنی درخواست میں استدعا کی کہ تمام گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے، شہری نے اپنی درخواست میں گاڑیوں کے ٹیکس کی شرح کو 33 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا، سپریم کورٹ نے اس درخواست کے بعد ایف بی آر اور وزارت خزانہ کو خصوصی حکم جاری کیا، اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں فوری کمی کی جائے، گاڑیوں پر موجود عائد ٹیکس شرح ناجائز ہے اس لیے ٹیکسوں میں کمی کے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کی شرح 33 فیصد کو کم کرکے 25 فیصد کر دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے اس احسن اقدام کے بعد پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ نے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس میں کمی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں تیار اور فروخت ہونے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس بہت زیادہ ہے۔ یہاں تیار اور فروخت ہونے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکس کی شرح 33 فیصد کے قریب ہے۔ اس حوالے سے آٹو کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی کل قیمت کا 33 فیصد مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہوتا ہے



















































