اسلام آباد(آئی این پی)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چکوال کے معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان رکن پنجاب اسمبلی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان آئندہ 24گھنٹوں میں کردیا جائے گا ، ان کے دادا راجہ سرفراز 30سال تک پنجاب اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پی پی 21چکوال سے نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کو
وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق راجہ یاسر ہمایوں سرفراز پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز بھی پاکستان تحریک انصاف سے کیا تھا ۔راجہ یاسر ہمایوں سرفراز تحریک انصاف شمالی پنجاب کے نائب صدر بھی ہیں جبکہ تحریک انصاف کی ملک بھر میں ممبر شپ مہم کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق 2013کے عام انتخابات میں راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پرانے حلقہ این اے 60جبکہ نئے حلقہ این اے 64سے انتخابات میں حصہ لیا جس میں راجہ یاسر ہمایوں سرفرازکو مسلم لیگ (ن) کے میجر (ر) طاہر اقبال نے 82ہزار کی لیڈ سے شکست دی تھی ۔راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے عام انتخابات 2018کے دوران پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 21سے الیکشن لڑا اور 15ہزار کی لیڈ سے فتح حاصل کی ۔ ذرائع کے مطابق راجہ یاسر ہمایوں سرفراز برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں ۔راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کے دادا راجہ سرفراز 28سال پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ۔ذرائع کے مطابق راجہ یاسر ہمایوں سرفرازلاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ سے ڈرگ کیس میں سزا یافتہ بھی ہیں ، ان پر چکوال کی ایک معروف کیمسٹ میں غیر رجسٹرڈ ادویات فروخت کرنے کا الزام ہے ۔لاہور ہائیکورٹ سے راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کوتین سال سزا ہوئی اور ان کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا ۔راجہ یاسر ہمایوں سرفراز8دن جیل میں بھی رہے جو کہ اب ضمانت پر ہیں ۔راجہ یاسر ہمایوں سرفراز کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں کیس تاحال زیر سماعت ہے ۔ذرائع کے مطابق راجہ یاسر سرفراز چکوال میں مائرز (MYERS) کالج بھی چلاتے تھے جو بعدازاں محکمہ تعلیم سے رجسٹرڈ نہ ہونے پر بند کردیا گیا تھا ۔(ن م)



















































