بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

معیشت کی بحالی، کپتان حکومت کے ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر نے کونسے دو نئے ادارے قائم کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ،براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کوششیں کی جائیں گی،ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کے حل کیلئے حکومت کاروباری برادری سے تجاویز کے حصول کے بعد اقتصادی کونسل اور بزنس ایڈوائزری کونسل کے نام سے دو ادارے قائم کرے گی۔

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور یونائٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے پیر کے روز اسد عمر کی خیریت دریافت کی جو گزشتہ روز انتخابات میں اپنی کامیابی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران گھوڑے سے گر کر زخمی ہوگئے تھے جس میں ان کے پائوں پر چوٹ آئی تھی۔افتخار علی ملک نے اسد عمر سے کہا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کاروبار دوست پالیسیوں کے متمنی ہیں، توقع ہے کہ نئے وزیر خزانہ اقتصادی بحالی کے لیے بھرپورکوشش کریں گے اور تفریط زر کی صورتحال سے چھٹکارا دلائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور تمام علاقائی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے متوقع نئے وزیر خزانہ اسد عمر کی ولولہ انگیز اقتصادی پالیسی کو سراہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی بحالی کے قومی ایجنڈے کے لیے پالیسی سازی کے دوران کاروباری برادری کو اعتماد میں لیں گے۔تاجر برادری نے کہا کہ وہ ملک میں اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے ہرسطح پر حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔اسد عمر کے ساتھ علیحدہ ملاقات کے دوران افتخار علی ملک نے انھیں یقین دلایا کہ ملک بھر کی کاروباری برادری اپنے مفادات کا سودا کیے بغیر تحریک انصاف کی حکومت سے تعاون کرے گی۔افتخار علی ملک نے بتایا کہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کاروبار دوست ماحول کے ذریعے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے

اعتماد کی بحالی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔اسد عمر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا ہے ، حکومت کاروباری برادری سے تجاویز کے حصول کے بعد اقتصادی کونسل اور بزنس ایڈوائزری کونسل کے نام سے دو باڈیز قائم کرے گی تاکہ ملک کو درپیش اقتصادی

مسائل کو حل کیا جاسکے ۔انھوں نے اپنی پارٹی کے اس مئوقف کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی معیشت میں حکومت کا کردار سہولت کار کا ہے جبکہ نجی شعبے کو ملکی معیشت کی بحالی اور اس کے فروغ کے لیے وسیع تر کردار ادا کرنا ہوگا۔اسد عمر نے کہا کہ اس وقت حکومت کے زیر انتظام 200 ایسے ادارے ہیں جو بدانتظامی،

اپنی سیاست پر مبنی قیادت اور بیمار ڈھانچہ سازی کے باعث ملکی خزانے پر 650 ارب روپے کا بوجھ ڈالتے ہیں، ان اداروں سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک ویلتھ فنڈ کے قیام کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے حوالے ان اداروں کو کیا جاسکے اور جو ان اداروں کی نئی سرے سے ڈھانچہ سازی کے لیے پیشہ ورانہ انتظامیہ کی خدمات حاصل کرسکے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…