جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

امی ‘ ابو اور بہن کا پوچھتی ہیں ہم بتاتے نہیں کیونکہ ۔۔کلثوم نواز اب کس حال میں ہیں؟حسین نواز نے اہم انکشافات کر دئیے

datetime 4  اگست‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کلثوم نواز کی صحت میں بہتری آئی ہے تاہم وہ ہاتھ پیر ہلا نہیں پا رہی اور نہ بول سکتی ہیں ، دل اور گردوں میں دوائوں کی نلکیاں ڈال دی گئی ہیں، وہ نواز شریف اور مریم نواز کی خیریت معلوم کرنا چاہتی ہیں مگر ہم انہیں کچھ نہیں بتا رہے، حسین نواز ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کلثوم نواز ہوش میں آچکی ہیں

تاہم ان کے جسم کے اعضا کام نہیں کر رہے مگر ان کو مکمل طور پر مفلوج بھی نہیں کہا جا سکتا۔ کلثوم نواز کی صحت کے حوالے ان کے صاحبزادے حسین نواز شریف نے قومی اخبار سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حسین نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی والدہ کلثوم نواز کی صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے، وہ ہوش میں ہیں اور ہاتھ پیر ہلا کر جواب دے رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میری والدہ نے ایک ماہ تک کوما میں رہنے کے بعد نواز شریف اور مریم کی احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا بھگتنے کیلئے پاکستان روانگی کے وقت پہلی مرتبہ آنکھیں کھولی تھیں۔ اب وہ ہوش میں ہیں لیکن وہ اپنے ہاتھ پیر پوری طرح نہیں ہلا پا رہیں اور بول بھی نہیں سکتیں لیکن اپنے اہل خانہ کو پہچانتی ہیں اور اس کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ اپنا سر بھی تھوڑا سا ہلا سکتی ہیں۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ وہ ہونٹ تو ہلاتی ہیں لیکن بول نہیں سکتیں، اللہ انھیں مکمل صحت یاب کرے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر کچھ بتانے سے قاصر ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان کی مکمل صحتیابی میں کافی وقت لگے گا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کا علاج جاری ہے اور وہ جواب دے رہی ہیں، وہ اب بھی وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ان کے حلق کا آپریشن کر کے ایک نلکی ڈال دی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ بتدریج ان کا علاج کر رہے ہیں اور ان پر اس کا بہتر اثر رونما ہو رہا ہے۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد ان کے جسم کے

اہم اجزا متاثر ہوئے تھے، ان کے دل اور گردوں میں دوائوں کی3 نلکیاں ڈالی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کا ڈائیلاسز بھی کیاگیا، ان کے پھیپھڑوں کو مدد کی ضرورت ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ اب تمام انحصار ان کی صحتیابی اور بحالی پر ہے اور اس میں وقت لگے گا۔ حسین نواز نے بتایا کہ وہ نواز شریف اور مریم کی خیریت معلوم کرنا چاہتی ہیں لیکن اہل خانہ انھیں پاکستان کی موجودہ صورت حال سے آگاہ نہیں کررہے ہیں۔ وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں اور ہم انھیں خبروں کے ذریعے تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے۔ جہاں وہ ہیں، اس کمرے میں کوئی میڈیا یا سوشل میڈیا نہیں ہے اور وہ پاکستان کی صورت حال سے لاعلم ہیں۔ ہم صورت حال بتا کر انھیں پریشان نہیں کرنا چاہتے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…