مودی نے کپتان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کیلئے کیا شرط رکھی تھی، عامر خان اور کپل دیو کو پاکستان آنے سے کیوں روکاگیا، عمران خان کو تقریر میں کس چیز کا ذکر کرنے سے انکا قریبی شخص روکتارہا،

  ہفتہ‬‮ 4 اگست‬‮ 2018  |  11:10

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران کا الیکشن میں جیت کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں کشمیر کا ذکر مودی اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو ناگوار گزر گیا،عامر خان کو حلف برداری تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا، عمران خان پر غلیظ حملے کرنے والے بھارتی جرنلسٹ اب تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے دعوت کے متمنی ہیں، حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی اور بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھنے والے ’’معید پیرزادہ‘‘نے حامد میر سے سوال کیا کہ عمران خان کی پہلی تقریر میں کشمیر کے ذکر پر امریکہ


نے نہیں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے اور نہ ہی اس نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ جس پر حامد میر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایسا تو نہیں کیا تاہم بھارت کو یہ چیز بہت ناگوار گزری ہے اور بہت وثوق کیساتھ آپ کو بتا رہا ہوں کہ عامرخان ، کپل دیو کو عمران خان نے اپنی حلف برداری تقریب میں مدعو کیا تھا اور عامر خان کے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ اس کو بھارتی سرکار نے روک دیا ہے کہ آپ نے عمران خان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان نہیں جانا۔ جس پر عامر خان نے مصروفیت کا بہانہ کر دیا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ بھارت چاہتا تھا کہ عمران خان کشمیر کا ذکر ہی نہ کرے۔ اس موقع پر پروگرام کے میزبان معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہےاگر عمران کی گزشتہ 4پانچ سال کی سیاست کو دیکھا جائے کہ وہ کشمیر کا ذکر نہ کریں۔ حامد میر نے اس موقع پر انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ایک انتہائی قریبی مشیر نے ان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ کشمیر کا ذکر نہ کریںبس یہ کہہ دیں کہ بھارت کے ساتھ موجود تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہونگے جس پر عمران خان نے کہا کہ ’’نہیں، میں کشمیر کا ذکر ضرور کروں گا‘‘۔معید پیرزاد نے حامد میر سے سوال کیا کہ میڈیا پر یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ عمران خان کی حلف برداری تقریب میں نریندر مودی کو مدعو کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ جس پر حامد میر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ برکھا دت صاحبہ نے ایک ٹویٹ کیا، انہوں نے بنی گالا میں عمران خان صاحب کے قریبی لوگ ہیں ان میں سے دو کو کال کی۔ انہوں نے ان سے پوچھا کہ آپ مودی کو بلا رہے ہیں جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ نہیں ، ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔ جس پر برکھا دت نے کہا کہ اگر آپ بلا لیں تو کیسا ہو گا۔ اس بات پر برکھا دت کو جواب دیا گیا کہ آپ ہمیں تجویز نہ دیں ہم نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ برکھا دت کے ساتھ بنی گالا میں عمران خان کےجس قریبی شخص کی بات ہوئی اس نے یہ بات مجھے بتائی ہے۔ حامد میر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پھر برکھا دت نے ایک ٹویٹ کر دیا کہ ایک اعلیٰ ذریعہ نے انہیں بتایا ہے کہ عمران خان کی حلف برداری تقریب میں مودی کو مدعو کرنے کیلئے بنی گالا میں غور کیا جا رہا ہے جس پر بھارت سے کئی صحافیوں نے میرے ساتھ رابطہ کیا اور اتفاق سے اس پر میں بنی گالا میں اسی شخص سے بار بار اس حوالے سے رابطہ کرتا رہا جس کی برکھا دت سے بات ہوئی تھی۔ میں اس سے پوچھ رہا تھا کہ یار!آپ مودی کو بلا رہے ہیں جس پر وہ قسمیں کھا تا رہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس موقع پر معید پیرزادہ نے کہا کہ اس حوالے سے تو بھارت میں کئی اخبارات میں ہیڈ لائنز لگ گئیں ہیں۔ جس پر حامد میر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بھارتی میڈیا پر میں موجود کچھ لوگوں نے ایک نان سٹوری میں سے ایک سٹوری بنائی اور پھر اس کی تردید ہو گئی ہے۔ حامد میر نے اس موقع پر خیال ظاہر کیا کہ بالواسطہ طور پر یہ لوگ نواز شریف کو سپورٹ کر رہے تھےکہ نواز شریف مودی کے بہت قریب تھے اور مودی ان کے گھر گئے تھے رائیونڈمیں اب دیکھیں کہ عمران خان مودی کو بلا رہے ہیں۔ حالانکہ مودی کو عمران خان نے نہیں بلایا۔ اب کیونکہ مودی کو نہیں بلایا گیا تومودی نے عامر خان کو روک دیا کہ پاکستان نہیں جانا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان اپنی پہلی تقریر میں کشمیر کا ذکر نہ کرتے تو یقیناََ عامر خان بھی آتے اور کپل دیو بھی آتے۔ اس موقع پر معید پیرزادہ نے حامد میر سے سوال کیا کہ عمران خان کی حلف برداری تقریب میں کوئی اور سلیبرٹیز کو کیوں نہیں بلایا گیا، ان کو تو بلانے چاہئے تھے جن میں شوبز اور کھیلوں کی بڑی شخصیات شامل ہوتیں۔ جس پر حامد میر کا کہنا تھا کہ جتنے بھی لوگ حلف برداری میں مدعو ہیں ان کے عمران خان کیساتھ ذاتی تعلقات اور جان پہچان ہیں یا دوستی ہے ان کو بلایا گیا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ بھارت میں جن سے عمران خان کے ذاتی تعلقات ہیں ان میں سے صرف نویجت سدھو ہی آرہے ہیں جبکہ کچھ صحافیوں کے بارے میں مجھے پتہ چلا ہے کہ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ہم آنا چاہتے ہیں ان میں سے وہ صحافی بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ ایک دو ماہ میں عمران خان کے خلاف نہایت غلیظ مہم چلائے رکھی۔ وہ آنا تو عمران خان کی حلف برداری تقریب میں چاہتے ہیں تاہم ان کی کوشش ہو گی کہ وہ اڈیالہ جیل کا بھی چکر لگا لیں۔

موضوعات:

loading...