منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

صدارتی انتخابات میں بھی کانٹے دار مقابلہ ،سردار اختر مینگل وزیراعظم ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور نئے صدر مملکت کے انتخاب میں سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئے،حیرت انگیزانکشافات

datetime 2  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد/کوئٹہ(آئی این پی )بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے صدر سردار اخترجان مینگل وزیراعظم ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور نئے صدر مملکت کے انتخاب میں سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں ، وہ جس پارٹی کیساتھ جائیں گے اس کا وزیراعظم منتخب ہوگا اور صدر ممنون حسین کی مدت مکمل ہونے کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں صدارتی الیکشن میں بی این پی (مینگل )کے 15ووٹ فیصلہ کن کردارادا کر سکتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق بی این پی مینگل کے صدر اختر مینگل سے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے وفود نے چوبیس گھنٹوں کے دوران دو اہم ملاقاتیں کی ہیں جبکہ بی اے پی بلوچستان کے صدر اور وزارت اعلیٰ کے اہم امیدوار جام کمال نے بھی ان سے اہم ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے وفد کو اختر مینگل نے 6 نکاتی مطالبات پیش کئے ہیں جن کا جواب متوقع وزیراعظم عمران خان سے لیکر نعیم الحق اور سردار یار محمد رند آج (جمعہ کو) اختر مینگل کو دیں گے جس کے بعد اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ اختر مینگل اور عمران خان کے درمیان ملاقات ہونی ہے یا نہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اس وقت بی این پی کے 7ارکارن ہیں اور خواتین کی مخصوص نشستیں ملا کر ان کی تعداد10ہوجائیگی جبکہ قومی اسمبلی میں ان کے ارکان کی تعداد چار ہے اور سینیٹ میں بھی ان کا ایک رکن ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل کی پارٹی کے ووٹ اسی طرح عمران خان کے وزیراعظم بننے کیلئے ضروری ہیں جس طرح ایم کیو ایم کے ووٹ ضروری ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے بی این پی کو نظر انداز کرکے اگر وزیراعلیٰ بنایا گیا تو صوبائی حکومت کو مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ اختر مینگل کے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان ، عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان سے قریبی رابطے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی این پی کے ووٹ آئندہ صدارتی الیکشن میں بھی اہمیت کا حامل ہے

کیونکہ بلوچستان اسمبلی کے 65ووٹ میں سے جس کو اکثریت ملے گی وہ آئندہ صدر پاکستان منتخب ہو سکتا ہے اور مجموعی طور پر بی این پی کے 15ووٹ بنتے ہیں اور صدارتی الیکشن میں بھی کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور صدارتی الیکشن کیلئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی ، ایم ایم اے ، اے این پی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی حاصل بزنجو گروپ اور دیگر اپوزیشن کے چھوٹے گروپ مشترکہ صدارتی امیدوار لائیں گے جو تحریک انصاف اور اس کے اتحادی جماعتوں کے صدارتی امیدوار کا مقابلہ کرے گا کیونکہ سندھ اور پنجاب اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے پاس کافی ووٹ ہیں اور سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی متحدہ اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد حکومت اتحاد سے کچھ کم ہے لہٰذا اس صورتحال میں بی این پی کے 15ووٹ فیصلہ کن کرداراختیار کر سکتے ہیں ۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…